ہڑتال سے ٹرینوں کی آمد و رفت میں خلل

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان میں جمعرات کے روز ملک بھر میں پانچ گھنٹوں کے لیے ریل گاڑیوں کی آمد و رفت کا سلسہ بند رہا۔ ریل گاڑیوں کی اس آمد و رفت کی بندش کی وجہ ملک بھر میں ٹرین ڈرائیوروں کی ہڑتال تھی جنہوں نے اپنے مطالبات نہ مانے جانے کے باعث ہڑتال کی۔
ٹرین انجن ڈرائیوروں نے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ اور ان کے ٹریولنگ الاؤنس کو بحال کیا جائے۔
ٹرین انجن ڈرائیورز ایسوسی ایشن اور ریلوے حکام کے بیچ مذاکرات میں ناکامی کے بعد ڈرائیوروں نے جمعرات کی صبح اپنا کام چھوڑ کر بھوک ہڑتال کر دی اور ملک بھر میں ریل گاڑیاں چلانے سے انکار کر دیا۔
لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق ٹرین انجن ڈرائیورز کی تنظیم کے اعلان کے مطابق ڈرائیوروں نے جو ریل گاڑی جس سٹیشن پر تھی وہیں روک دی اور کہا کہ کوئی ڈرائیور ان کے مطالبات کی منظوری تک ریل گاڑی نہیں چلائے گا۔
پورے پاکستان میں ریل گاڑیاں رک جانے سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
لاہور اور کراچی کے درمیان مرکزی شاخ کی کئی ریل گاڑیاں جمعرات کی صبح چلائی ہی نہیں گئیں اور اعلان ہوتے رہے کہ مسافر اپنی ٹکٹوں کے پیسے واپس لے سکتے ہیں۔
تقریبا پانچ گھنٹے کے بعد ٹرین ڈرائیوروں نے مطالبات مانے جانے کی یقین دہانی پر جمعرات کی صبح سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ڈرائیوروں کی ہڑتال کی وجہ سے ریل گاڑیاں آٹھ آٹھ گھنٹے تک بھی تاخیر کا شکار ہوئیں۔
یہ کام چھوڑ ہڑتال وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور سے ملاقات اور طویل مذاکرات کے بعد ختم ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹرین ڈرائیور ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اعلان کیا کہ ریل گاڑیاں چلانے کا فیصلہ جذبہ خیر سگالی کے تحت کیا گیا ہے تا کہ مسافروں کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ریلوے کی لیبر تنظیموں کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے ڈرائیوروں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ جیسے ہی وفاقی حکومت ریلوے کو فنڈز جاری کرئے گی تو ان کے مطالبات مان لیے جائیں گے۔







