پشاور: دھماکے میں چار بچے زخمی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں دھماکے سے چار بچے زخمی ہو گئے۔
دریں اثناء تخت بھائی میں سی ڈیز کی مارکیٹ میں دھماکہ کر کے چار دکانوں کو مکمل تباہ کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق پشاور کے کوہاٹ روڈ پر سکیم چوک کے نزدیک نامعلوم افراد نے ایک ہتھ ریڑھی میں دھماکہ خیز مواد چھپا رکھا تھا۔
بڈھ بیر پولیس تھانے کے ایس ایچ او رفیق گل نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ قربان علی نامی شخص کے مکان قریب ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکے سے ایک دکان اور مکان کو نقصان پہنچا ہے۔
پشاور سے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں حکام نے بتایا کہ چار زخمی بچے ہسپتال لائے گئے تھے جن میں عبدالواحد اور فاطمہ شدید زخمی ہیں جبکہ ایک زخمی کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔
ادھر ضلع مردان کی تحصیل تخت بھائی میں نامعلوم افراد نے بازار میں ٹکر روڈ پر واقع سی ڈیز کی مارکیٹ میں دھماکہ کیا ہے۔
تخت بھائی پولیس کے مطابق دھماکے سے چار دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں جبکہ اکیس دکانوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق سی ڈیز کی یہ مارکیٹ خورشید مارکیٹ کے نام سے جانی جاتی ہیں جہاں کل پچیس دکانیں ہیں اور اس دھماکے سے تمام دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
دھماکے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس سال کے ان دو ماہ میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
سی ڈیز کی دکان پر حملے کا واقعہ کافی عرصے کے بعد پیش آیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز پر صوبے کے مختلف شہروں میں سی ڈیز کی دکانوں پر حملے کیے گئے تھے۔







