چارسدہ: فائرنگ سے مقامی صحافی ہلاک

صحافیوں کی عالمی تنظیموں کے مطابق پاکستان کو صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک تصور کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنصحافیوں کی عالمی تنظیموں کے مطابق پاکستان کو صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں شبقدر کے مقام پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے مہمند ایجنسی کی رپورٹنگ کرنے والے مقامی صحافی مکرم خان کو ہلاک اور ایک امام مسجد کو زخمی کر دیا ہے۔

شبقدر پولیس کے مطابق منگل کی شام کو یہ واقعہ مغرب کی نماز کے وقت پیش آیا ہے۔

اہلکاروں نے بتایا کہ صحافی مکرم خان اور امام مسجد نصر من اللہ مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے باہر نکلے ہی تھے کہ موٹر سائکل پر سوار نامعلوم افراد نے فائرنگ شروع کر دی۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ صحافی مکرم خان کو زخمی حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور روانہ کیا گیا لیکن حکام کے مطابق ہسپتال پہنچنے سے پہلے وہ دم توڑ چکے تھے۔

شبقدر سے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے مسجد کے اندر اس وقت فائرنگ کی جب لوگ مغرب کی نماز ادا کر رہے تھے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ مکرم خان سمیت دیگر قبائلی علاقوں کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔

مکرم خان مقامی چینل دنیا نیوز اور پشتو زبان کا امریکی ریڈیو چینل ڈیوہ ریڈیو کے لیے کام کرتے تھے، مکرم خان ایک متحرک صحافی تھے۔

قبائلی علاقوں کی صحافی تنظیم، ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس نے مکرم خان کی ہلاکت پر تین روز کے لیے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم کے مطابق جمعرات کے روز پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا جائے گا۔

یونین کے سابق صدر صفدر حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی طرح قبائلی علاقوں کے صحافیوں کو بھی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں صحافت کرنا انتہائی مشکل ہے۔

صفدر حیات نے بتایا کہ مکرم خان کو اس وقت نامعلوم افراد نے گولیاں ماریں جب وہ مغرب کی نماز ادا کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ امام مسجد کو سر پر گولی لگی ہے جس سے وہ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ مسجد مکرم خان کے گھر کے قریب پشاور روڈ پر واقع ہے اور یہاں وہ نماز ادا کرنے آتے تھے۔