جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ

دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو ایک دوسرے کو اپنی اپنی جوہری تنصیبات سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں
،تصویر کا کیپشندونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو ایک دوسرے کو اپنی اپنی جوہری تنصیبات سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں

پاکستان اور بھارت نے نئے سال کے پہلے روز ہر سال کی طرح جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں پاکستانی جوہری تنصیبات کی تفصیل بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کےحوالے کی جبکہ بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں یہ فہرست پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کی گئی۔

پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری ہونی والی پریس ریلیز میں فہرستوں کی جزیات کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

دونوں ممالک کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کے تبادلے کا معاہدہ اکتیس دسمبر سنہ انیس سو اٹھاسی کو ہوا تھا تاہم اس پر عملدر آمد جنوری انیس سو اکانوے سے ہوا تھا۔

اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو ایک دوسرے کو اپنی اپنی جوہری تنصیبات سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔

اس فہرست میں عام طور پر سویلین جوہری پاور پلانٹس کے ساتھ ان کے جائے وقوع بھی بتائی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی پاکستان اور بھارت کے مابین ماہرین کی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے سلسلے میں اعتماد بڑھانے کے اقدامات کے حوالے سے مذاکرات کا چھٹا مرحلہ اسلام آباد میں منعقد ہوا ہے۔

ان دو روزہ مذاکرات میں جوہری ہتھیاروں سے جڑے حادثات سے ہونے والے نقصانات میں کمی کے معاہدے میں پانچ سال کی توسیع کی سفارش کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں سے متعلق لاہور میں طے پانے والے یاداشت نامے پر عملدرآمد اور اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے نظرِ ثانی کی گئی۔

مذاکرات میں جوہری ہتھیاروں سے متعلق باہمی قابل قبول اضافی اعتماد سازی کے اقدامات کے امکانات تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پاکستان اور بھارت نے آج جوہری تنصیبات کی فورستوں کے علاوہ قیدیوں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کیا۔