’حکومت سے رابطے مولوی فقیر کا ذاتی فعل‘

 مولوی فقیر
،تصویر کا کیپشنحکومت سے رابطے مولوی فقیر کا ذاتی معاملہ ہے:ملا داداللہ

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر مولانا داد اللہ نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم حکومتِ پاکستان کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہی اور تنظیم کے نائب امیر مولوی فقیر محمد ذاتی حیثیت میں حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں جس کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر اور باجوڑ طالبان کے اہم کمانڈر مولوی فقیر محمد نے سنیچر کو بی بی سی اردو سے بات چیت میں پاک افغان اتحاد کو ضروری قرار دیتے ہوئے قیام امن کی اہمیت پر زور دیا تھا۔<link type="page"><caption> اس کے علاوہ پشاور کے سینئر صحافی اور خطے کے امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مولوی فقیر محمد نے جمعہ کو ان سے بھی رابطہ کیا تھا اور اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کے اور حکومت پاکستان کے درمیان رابطے ہوئے ہیں۔ </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/12/111210_rahimullah_2way_ha.shtml" platform="highweb"/></link>

حکومتِ پاکستان نے فوری طور پر مولوی فقیر محمد کے حکومت سے رابطوں کے بیان کی نہ تو تردید اور نہ ہی واضح طور پر تصدیق کی۔

اس بیان کے چند گھٹنے بعد سنیچر کی شب مولانا داد اللہ نے پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد کے قریب کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو سے خود رابطہ کیا اور کہا کہ طالبان کی جانب سے مذاکرات کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مولوی فقیر کا ذاتی اور شخصی معاملہ ہے تحریک کا نہیں۔ ان کے مطابق ’پاکستان کے ساتھ ہمارا کوئی مذاکرہ نہیں۔ مولوی فقیر کی جو بات چیت چل رہی ہے وہ اس کا اپنا مسئلہ ہے اور وہ ذاتی طور پر حکومت کے ساتھ رابطے کر رہے ہیں‘۔

ملا داداللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں حکومتِ پاکستان سے مذاکرات کا حامی نہیں اور جب تک پاکستان کی سرزمین پر شریعتِ محمدی نافذ نہ ہو ہمارا کوئی مذاکرہ نہیں اور ہماری جنگ بند نہیں ہوگی‘۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے ہی دو کمانڈروں کے بیانات میں تضاد پر سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے بی بی سی اردو کے احمد رضا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر باجوڑ میں طالبان میں آپس میں دھڑا بندی ہے اور ملا داداللہ باجوڑ میں تحریکِ طالبان پاکستان کی امارت کا دعوٰی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ کچھ طالبان دھڑوں کے حکومت سے رابطے ہوئے ہیں اور شاید حکومت نے ان سے بلاواسطہ بات چیت نہیں کی ہے لیکن قبائلی عمائدین اور علماء مصالحت کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں ان رابطوں میں ابھی کوئی پیشرفت نہیں ہوئی لیکن جنوبی وزیرستان اور باجوڑ میں رابطے ہوئے ہیں‘۔