’دہشتگردی کی جنگ سے نکلنے کا موقع‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے نائب امیر مولوی فقیر محمد نے کہا ہے کہ مہمند ایجنسی میں پاک فوج پر ہونے والے نیٹو فورسز کے حملے نے حکومت کو ایک ایسا موقع دیا ہے جس کے تحت وہ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ سے باہر نکل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے ’ناراض‘ ساتھیوں کو منا کر ایک بھر پور طاقت کے ساتھ اپنی ’خود مختاری اور آزادی‘ کا اعلان کرنا چاہیے۔
مولوی فقیر محمد نے پاک افغان سرحد کے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں اب امریکہ کی پالیسی تبدیل ہو رہی ہے کیونکہ ان کے بقول پہلے وہ قبائلیوں کو نشانہ بناتے تھے لیکن اب پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک اچھا موقع ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھا کرامریکہ کی عالمی جنگ سے نکلنے کا اعلان کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان اصل اختلاف اس بات پر ہے کہ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود بھی پاکستانی حکمرانوں نے غیر ممالک کی غلامی اپنائی ہوئی ہے۔
طالبان کمانڈر نے سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے قتل کے حوالے سے کہا کہ ’ربانی کے قتل کا الزام پاکستان پر لگایا گیا لیکن اب بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو نشانہ بنا کر افغان حکومت کے اس الزام کا جواب دیا ہے۔‘
مولوی فقیر محمد سے بار بار پوچھے جانے کے باوجود بھی وہ برہان الدین ربانی کے قتل کے حوالے سے کی گئی بات کو مکمل طور پر واضح نہیں کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ امریکی حملے سے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا فائدہ کسی نہ کسی حد تک فاٹا کے عوام کو بھی پہنچ سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے تو یہی محسوس ہوتا ہے ہے کہ پاکستان امریکہ کو قبائلی علاقوں میں پہلے جیسے ڈرون حملوں کی کھلی اجازت نہیں دے گا جبکہ پاکستان کی بھی کوشش ہوگی کہ وہ فاٹا میں مذید آپریشن نہ کریں تاکہ قبائلیوں کا اعتماد حاصل کیا جاسکے۔
خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں پاک فوج کی چوکیوں پر ہونے والے حملے کے بعد تحریکِ طالبان کے کسی ذمہ داری شخص نے پہلی مرتبہ میڈیا کو اپنا تفصیلی موقف جاری کیا ہے۔







