سوات: طالبہ بین الاقوامی ایوارڈ کے لیے نامزد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے عروج کے وقت مینگورہ سے بی بی سی اردو سروس کو ایک فرضی نام سے ڈائری لکھنے والی آٹھویں جماعت کی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو بچوں کے بین الاقوامی امن ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ وہ پہلی پاکستانی بچی ہیں جنھیں اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
بچوں کی حقوق کے لیے کام کرنے والی ہالینڈ کی بین الاقوامی تنظیم’ کڈز رائٹس‘ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سال ’ انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائس‘ کے لئے پوری دنیا سے پانچ بچوں کو نامزد کیا گیا جن میں پاکستان سے تیرہ سالہ ملالہ یوسف بھی شامل ہیں۔
اس نامزدگی کا اعلان چند ہفتے قبل ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈم میں نوبل انعام یافتہ ڈسمنڈ ٹوٹو نے ایک تقریب کے دوران کیا۔
ادھر ملالہ یوسف زئی نے بچوں کے عالمی امن ایوارڈ کے لیے نامزدگی پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ میں پہلی پاکستانی اور پشتون ہوں جسے اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے جو یقینی طور پر پورے ملک کے لیے اعزاز کی بات ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ بھی میڈیا کے ذریعے بچوں کے حقوق بالخصوص یتیم بچے اور بچیوں کے لیے کام کرتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ بڑی ہوکر وکیل اور سیاستدان بننا چاہتی ہیں تاکہ ملک و قوم کی حقیقی معنوں میں خدمت کرسکیں۔
خیال رہے کہ ملالہ یوسف زئی کا تعلق صدر مقام مینگورہ شہر سے ہیں۔ سوات میں دوہزار نو میں فوجی آپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے۔ مولانا فضل اللہ کے حامی جنگجو وادی کے بشیتر علاقوں پر قابض تھے جبکہ بچیوں کی تعلیم پر بھی پابندی لگائی گئی تھی۔ یہ ایسا وقت تھا جب مینگورہ شہر سے روزانہ گلہ کٹی یا لٹکائی ہوئی لاشیں ملتی تھیں جبکہ کوئی طالبان کے خوف کی وجہ سے میڈیا میں بھی بات نہیں کرسکتا تھا۔
ایسے میں ملالہ یوسف زئی نے بچی ہوکر بھی انتہائی جرت کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے بی بی سی اردو سروس کےلیے باقاعدگی سے ڈائری لکھنا شروع کیا۔
اس ڈائری میں وہ سوات کے اندر ہونے والے واقعات اور طالبان کے ظلم و ستم کی کہانیاں لکھا کرتی تھیں۔ اس کے بعد اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی باقاعدگی سے شائع ہونے لگی۔ اس کے علاوہ ملالہ یوسف زئی پر میڈیا کے دو بین الاقوامی اداروں نے دستاویزی فلمیں بھی بنائی جس میں انہوں نے کھل کر طالبان کی طرف سے تعلیم پر پابندیوں کی بھر پور مخالف کی ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







