سندھ میں کمشنری نظام کا دوبارہ نفاذ

سندھ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، سکھر اور لاڑکانہ میں کمشنر تعینات کر دیے گئے ہیں۔
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھ میں حکمران پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں بلدیاتی نظام پر اتفاق نہ ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر صوبے میں کمشنری نظام اور سنہ 1979 کا بلدیاتی نظام بحال کردیا گیا ہے۔

کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، سکھر اور لاڑکانہ میں کمشنروں کی تعیناتی کردی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے مذاکرات کے کئی دور چلے اور ہر اجلاس کے بعد حکومت کی جانب سے یہ اعلامیہ جاری ہوتا رہا کہ مزید مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی ناراضگی کے بعد پیپلز پارٹی نے جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں متعارف کرائے گئے بلدیاتی نظام کو موخر اور کراچی اور حیدرآباد کی پرانی حیثیت بحال کردی تھی۔ جس کے تحت کراچی پانچ اضلاع میں تقسیم ہوگیا تھا جبکہ مٹیاری، ٹنڈو الٰہ یار اور ٹنڈو محمد خان اضلاع کو حیدرآباد ضلعے میں ضم کردیا گیا تھا۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی واپسی کے بعد دونوں جماعتوں میں اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر دو آرڈیننس جاری کرکے کمشنری نظام اور سنہ 1979 کے بلدیاتی نظام کو ایک مخصوص مدت کے لیے معطل کردیا گیا۔

اس عرصے میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات چلتے رہے لیکن کوئی اتفاق رائے قائم نہ ہوسکا، اسی دوران آرڈیننس کی معیاد پوری ہوگئی اور موخر کیئے گئے دونوں فیصلے بحال ہوگئے۔

پاکستان کے آئین میں حالیہ کی گئی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے مطابق کسی معاملے پر جاری ہونے والے آرڈیننس کا دوبارہ اجرا نہیں کیا جاسکتا ہے، جس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو پہنچا اور اس کی پوزیشن مستحکم ہوئی۔

پیپلز پارٹی کے باغی سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کمشنری نظام کی بحالی کے لیے راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اتحادی جماعتوں سے ملاقات کرکے ان کی حمایت حاصل کی اور ایک درجن سے زائد اپنی جماعت کے اراکین کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔

اس صورتحال میں بلدیاتی نظام اور کمشنری نظام کی بحالی کا فیصلہ واپس لینے کے لیے کوئی قانون سازی کرنا دشوار بن گیا۔

حکومت کے حالیہ فیصلے کے مطابق کراچی کو پانچ اضلاع میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ جس کی ماضی میں ایم کیو ایم مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس کے ساتھ حیدرآباد کے ساتھ مٹیاری، ٹنڈوالہیار اور ٹنڈو محمد خان کی ضلعی حیثیت برقرار رکھی گئی ہے جو ایم کیو ایم کا مطالبہ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صدر آصف زرداری کے ضلع بینظیر آباد کو حیدرآباد ڈویژن میں شامل رکھا گیا ہے۔

کمشنری نظام، کراچی کی پانچ اضلاع میں تقسیم اور حیدرآباد ضلعے کی پرانی حیثیت میں بحالی کے لیے پیپلز پارٹی پر اپنے ہمدروں، اتحادیوں، قومپرست جماعتوں اور اپوزیشن جماعتوں کا دباؤ رہا ہے جس سے حکومت کافی حد تک باہر نکل آئی ہے مگر بلدیاتی نظام کے خدو خال پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں مذاکرات جاری ہے۔

حکمران پیپلز پارٹی صوبائی محکموں کے اختیارات حکومت کے پاس رکھنے کی حامی ہے جبکہ ایم کیو ایم ان اختیارات کے ساتھ زمین کی الاٹمنٹ اور پولیس کو بھی بلدیاتی اداروں کے ماتحت بنانے کی حمایت کرتی ہے جس کے لیے سنہ دو ہزار ایک کا بلدیاتی نظام مددگار ثابت ہوتا ہے، اس لیے ایم کیو ایم کی پوری کوشش ہے کہ وہ ہی نظام یا اس سے ملتا جلتا نظام نافذ کیا جائے۔