کراچی:’بھاری پانی کا اخراج معمولی واقعہ‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کراچی میں واقع ایٹمی بجلی گھر سے بھاری پانی کے اخراج کے بعد پلانٹ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ حکومتِ پاکستان نے اسے ایک معمولی واقعہ قرار دیا ہے۔
کراچی سے پندرہ میل دور ساحل سمندر پر واقع کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ میں بدھ کو روز اس وقت عارضی ہنگامی حالت نافذ ہوئی تھی جب ایک پائپ سے ہیوی واٹر کا اخراج ہوا۔
حکومتِ پاکستان حکومت نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو بھیج دی ہے، جس میں واقعہ کی نوعیت معمولی بیان کی گئی ہے۔
پاکستان ایٹمی انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عنصر پرویز نے بی بی بی اردو کے ریاض سہیل کو بتایا کہ پلانٹ میں ایک لاکھ تیس ہزار کلوگرام ہیوی واٹر موجود ہے، اس میں سے ایک جگہ تھوڑی سے لیکیج ہوئی اور ہیوی واٹر نکلنا شروع ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ایک حد تک پانی کا اخراج برداشت کیا جاسکتا ہے اگر اس سے تھوڑ سا بھی زیادہ ہو تو سٹیشن ایمرجنسی کا اعلان کر دینا چاہیے، اس دن بھی ایمرجنسی کے بعد لوگوں نے اس لیکیج کو بند کردیا، جو ہیوی واٹر نیچے گرا تھا اس میں سے اسی فیصد پانی جمع کرلیا گیا کیونکہ یہ بہت قیمتی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ پلانٹ واقعے سے پہلے پانچ اکتوبر سے بند ہے اور اس وقت تک بند رہے گا جب تک اس بات کا یقین نہیں کیا جاتا کہ یہ واقعہ کسی اور جگہ پیش نہیں آئےگا‘۔
ڈاکٹر عنصر پرویز کے مطابق جاپان میں زلزلے کے باعث فوکوشیما میں ایٹمی پلانٹس کو لاحق خطرات کے بعد انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے آئی این ایس نظام بنایا ہے جس کے تحت معمولی سے نوعیت کے واقعے کی رپورٹ کرنا بھی لازمی ہے، ان کے مطابق یہ سب سے کم نوعیت یعنی اول درجے کا ’واقعہ‛ تھا جبکہ سب سے شدید واقعہ سات درجے کا ہوتا ہے جبکہ حادثے کے گریڈ الگ ہیں۔
کراچی نیو کلیئر پاور پلانٹ ، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لائسنس کے تحت کام کرتا ہے۔ پاکستان ایٹمی انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عنصر پرویز کے مطابق اتھارٹی نے دو سال کا لائسنس دیا ہے جو دسمبر تک موثر ہے، اس کی توسیع اس وقت ہوگی جب کچھ اسٹڈیز اور انسپیکشن مکمل کی جائیں گی، ماہ نومبر میں وہ تمام انسپیکشن اور کارکردگی رپورٹس بنا کر بھیجتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے سینئر ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کا کہنا ہے کہ عام طور پر ان پلانٹس کی زندگی بیس سال ہوتی ہے مگر بعد میں اس کے آلات تبدیل کرکے مدت بڑہا دی جاتی ہے، اس کے علاوہ پلانٹ کو مکمل گنجائش پر نہیں چلایا جاتا بلکہ کم رکھا جاتا ہے جس سے یہ محفوظ رہتا ہے۔ کراچی نیوکلیئر پاؤر پلانٹ کو بھی حکام 137 میگاواٹ کے بجائے اسی پچاسی میگاواٹ پر چلاتے رہتے ہیں، اس کی آئی اے ای اے والے مانیٹرنگ کرتے ہیں اگر انہیں کوئی خطرہ نظر آئیگا تو بند کرنے کے لیے کہہ دیں گے۔
کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ انیس سو بہتر میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے لگایا گیا تھا، اس وقت اس کی گنجائش 137 میگاواٹ تھی، جو اس وقت کم ہوکر اسی میگا واٹ رہ گئی ہے۔ یہ بجلی کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو فروخت کی جاتی ہے۔







