’شہباز تاثیر پاک افغان سرحدی علاقے میں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو اغوا کر کے پاکستان اور افغانستان سرحد کے قریب لے جایا گیا۔
یہ بات رحمان ملک نے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا میں ایک تقریب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
یاد رہے کہ اس واقعہ کے فوری بعد پنجاب حکومت کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا تھا کہ شہباز تاثیر کو کاروباری لین دین کے سلسلے میں اغوا کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
بعدازں صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے مطابق خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق اغوا کار شہباز تاثیر کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں لے گئے ہیں۔ تاہم اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس میں کوئی کالعدم تنظیم کے لوگ ملوث ہیں کہ نہیں۔
یاد رہے کہ شہباز تاثیر کو کچھ عرصہ قبل نامعلوم مسلح افراد نے لاہور سے اغوا کرلیا تھا۔
وزیر داخلہ رحمان ملک نے انکشاف کیا کہ القاعدہ کی طرف سے حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کا سراغ لگایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں نے اس سازش کو بے نقاب کیا ہے اور اس ضمن میں وزارت داخلہ کو تحریری طور پر بھی مطلع کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ کے بقول اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ اپنی حامی ایک اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ مل کر بلاول بھٹو کو اغوا کرنے کی کوشش کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ملکی اور غیر ملکی اداروں کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے علاوہ دیگر جماعتوں کے قائدین کی سکیورٹی کو مذید بڑھانے کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری ان دنوں برطانیہ کی ایک بین الاقوامی شہرت کی حامل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔







