پختونخوا: یونیورسٹی اساتذہ کی ہڑتال

پاکستان میں یونیورسٹی اساتذہ کی تنظیم فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) اور پشاور یونیورسٹی ملازمین تنظیموں نےغیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کردی ہے۔
یہ ہڑتال وفاقی حکومت کی جانب سے تنخواہ میں پندرہ فیصد اضافے کے اعلان پر عمل درامد نہ کرنے کے خلاف کی گئی ہے جسکی وجہ سے صوبہ بھر میں تمام سرکاری جامعات میں تدریسی عمل رک گیا ہے۔
پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ فپواسا خیبر پختون خوا چیپٹر کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد طیب نے بی بی سی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے سالانہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواؤں میں پندرہ فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا جبکہ یہ اضافہ تمام اداروں کے ملازمین کو مل چکا ہے لیکن یونیورسٹی ملازمین کی تنخوائیں ابھی تک نہیں بڑھائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے تین ماہ سے اساتذہ کی تنظمیں اخباری بیانات اور پریس کانفرنسز کر کے تنخواؤں میں اضافہ کا مطالبہ دہراتی رہی ہے لیکن اس دوران حکومت نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔
ان کے مطابق ’ ہم نہیں چاہتے تھے کہ حالات اس نہج تک پہچیں کہ ہمیں جامعات کو بند کرنے کی کال دینا پڑے اور طلبہ کا بے جا وقت ضائع ہو لیکن حکومت نے ہمارے احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور اب مجبوراً ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے‘۔
ڈاکٹر محمد طیب کا کہنا تھا کہ اساتذہ اور ملازمین تنظیموں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ ہڑتال اس وقت چلتی رہے گی جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔
ادھر اساتذہ کی جانب سے کیمپس کے چار جامعات میں ہڑتال کے اعلان کو یونیورسٹی کے طلباء تنظیموں نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا ہے۔
جمعرات کی شام طلباء اور اساتذہ میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد طلباء تنظیموں نے یونیورسٹی کیمپس میں احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا اور اساتذہ کی طرف سے ہڑتال کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سیلاب اور مغوی وائس چانسلر اجمل خان کی بازیابی کے لیے تمام یونیورسٹیوں کو بند کیا گیا تھا اور اس سال بھی تنخواؤں کے معاملے پر جامعات کو غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس سے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلباء تنظیمیں کسی بھی صورت میں یونیورسٹی کو بند نہیں ہونے دینگے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جامعات کو فوری طورپر فنڈز جاری کیا جائے۔







