گوجرانوالہ قتل: سات کو سزائے موت

صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج مشتاق احمد گوندل نے بھرے مجمع اور پولیس کی موجودگی میں دو سگے بھائیوں کے وحشیانہ قتل کے الزام میں سابق ضلعی پولیس افسر سمیت بائیس ملزمان کو سزائیں سنا دیں ہیں۔
عدالت نے دونوں بھائیوں کے قتل کے الزام میں سات ملزمان کو چار، چار مرتبہ سزائے موت اور چھ ملزمان کو چار ، چار بار عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ ملزمان کو جرمانے کی ادائیگی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
<link type="page"><caption> گوجرانوالہ قتل: مقدمہ کی کارروائی مکمل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/09/110920_gujranwala_lynching_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
عدالت نے اس مقدمہ میں نامزد ملزم اور سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقار چوہان سمیت نو پولیس اہلکاروں کو تین تین سال قید اور پچاس پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج نے مقدمہ میں ملوث پانچ ملزموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔
بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق عدالت نے مقدمہ پر ایک سال سے زیادہ عرصہ تک سماعت کی اور منگل کو وکلا کے حمتی دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو رات گئے گیارہ بجے کے قریب سنایا گیا۔
گزشتہ برس پندرہ اگست کو سیالکوٹ کے نواحی علاقے بٹر میں پولیس کی موجودگی میں بہت سے لوگوں نے دو سگے بھائیوں حافظ مغیث اور منیب کو رسیوں سے باندھا اور اس کے بعد دونوں بھائیوں پر ڈنڈوں سے تشدد کر کے انہیں ہلاک کردیا گیا تھا۔
لوگوں نے دونوں بھائیوں کی لاشوں کو پہلے الٹا لٹکایا اور بعد میں ان بھائیوں کی لاشوں کو شہر میں گھمایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس واقعہ کا مقدمہ بیس اگست کو درج کیا گیا جب کہ اکیس اگست کو اس مقدمہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی۔
اس مقدمہ میں اٹھائیس نامزد ملزمان تھے جن میں ڈی پی او سیالکوٹ سمیت دس پولیس اہلکار بھی شامل تھے اور ایک پولیس اہلکار کا مقدمہ کی سماعت کے دوران انتقال ہوگیا۔
ہلاک ہونے والے دونوں بھائیوں کے اہلِ خانہ نے عدالتی فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کیا اور بقول ان کے انہیں انصاف مل گیا ہے۔
ماہرین قانون کے مطابق انسداد دہشت گردی کے فیصلے کے خلاف سات روز کے اندر لاہور ہائی کورٹ کے روبرو اپیل دائر کی جاسکتی۔
گوجرانوالہ جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران ملزمان پر نومبر دو ہزار دس کو فرد جرم عائد کی گئی اور اس مقدمہ میں اکتیس گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کی تبدیلی کی وجہ سے مقدمہ پر کارروائی کچھ عرصہ کے لیے معطل رہی۔
مقدمے میں پولیس اہلکاروں پر غفلت برتنے جبکہ دیگر افراد پر قتل کرنے اور اعانت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس نے ہلاک کیے جانے والے دونوں بھائیوں کے خلاف مسلح ڈکیتی کرنے کے الزام میں مقدمہ بھی درج کیا تھا۔
اس واقعہ کی بنائی جانے والی فوٹیج کو پاکستان میں مقامی ٹی وی چینلوں نے نشر کیا جس کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس کا نوٹس لیا جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پولیس کے اعلیٰ افسروں پر مشتمل ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دی تھی۔







