خضدار: بی این پی کے رہنما ہلاک

بلوچستان کےعلاقے خضدار میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء جمعہ خان رئیسانی سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ بی این پی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے صوبے بھر میں احتجاج کرنے کے اعلان کیا ہے۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعہ کو کوئٹہ سے تین سو کلومیٹر دورجنوب میں واقع خضدار شہر میں اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء جمعہ خان رئیسانی کی گاڑی پر فائرنگ کی جب وہ نمازِ جمعہ ادا کرنے کے بعد مسجد سےگھر کی طرف جا رہے تھے۔
<link type="page"><caption> ’بات چیت کے لیے فوج کو رویہ بدلنا ہو گا‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/07/110721_baloch_corps_cmdr_missing_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
فائرنگ سے جمعہ رئیسانی، ان کے ڈرائیور اور دو محافظ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
خضدار تھانہ کے ایس ایچ او عبدالقادر کے مطابق واقعہ میں ہلاک والوں کو فوری طور پرسول ہسپتال خضدار منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ضروری کارروائی کے بعد لاشوں کو ورثاء کے حوالے کر دیا ہے۔
واقعہ کے بعد دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے شہر کی ناکہ بندی کر دی ہے لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور نہ ہی کسی نے اس واقعہ کی تاحال ذمہ داری قبول کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے خضدار میں پارٹی رہنما جمعہ خان رئیسانی کی ساتھیوں سمیت ہلاکت کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز کے بیان کا ردعمل اور جواب ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج بھی بلوچستان سے متعلق رویے تبدیل نہیں ہوئے اور سرکاری سطح پر نفرتیں بڑھا کر پاکستان کی سلامتی کے خلاف سامان تیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعرات کو فوج کی جانب سے بیان میں بلوچستان میں لوگوں کو لاپتہ کر کے ان کی مسخ شدہ لاشوں کے پھینکنے کے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا جب اس کے بیان کے ردعمل میں ہم نے یہ کہا کہ فوج کو بلوچستان سے متعلق اپنے رویے تبدیل کرنے ہونگے تو اس بیان کا جواب آج جمعہ خان رئیسانی اور اس کے ساتھیوں کی ہلاکت کی صورت میں دیا گیا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے صوبے بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس سلسلے میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات آغاحسن بلوچ نے بتایا کہ پارٹی رہنما کی ہلاکت کے خلاف بی این پی نے پانچ روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
اس کے علاوہ ہفتہ کو خضدار،قلات، مستونگ، بیلہ اور آواران میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور اتوار کو نوشکی، دالبندین،خاران اور واشک، پچیس جولائی کو مکران ڈویژن، چھبیس جولائی کو نصیرآباد، انتیس جولائی کو کوئٹہ اورتیس جولائی کو بلوچستان بھر میں ریلیاں اور مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔







