’حکیم اللہ، حقانی کے جنگجو موجود نہیں‘

- مصنف, دلاورخان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے عمائدین نے خیبر پختونخوا کے گورنر کو بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان حکیم اللہ گروپ اور افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی نیٹ ورک کا کوئی جنگجو علاقے میں موجود نہیں ہیں۔
یہ بات قبائلی رہنماء مولانا گل رمضان نے گورنر مسعود کوثر سے ایک جرگے کے بعد بی بی سی کو بتائی۔
انہوں نے کہا کہ جرگے نے گورنر کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں مقامی لوگ ان مقامی اور غیر مُلکی شدت پسندوں کی کوئی مدد نہیں کرے گا جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔
شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے وزیر اور داوڑ قبائل کے سولہ رُکنی جرگے نے سنیچر کی شام علاقے میں امن و امان کے حوالے سےگورنر ہاؤس پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات کی۔ جرگے میں شمالی وزیرستان کے چیف رہنماء ملک قادر خان اور ملک مامور خان بھی شامل تھے۔
مولانا گل رمضان نے بتایا کہ جرگے نے گورنر کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان پُر امن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے یقین دلایا ہے کہ اگر حکومت شمالی وزیرستان میں ترقیاتی کام کرنا چاہتے ہیں تو وہ تحفظ دینے کے لیے تیار ہیں۔
مولانا گل رمضان کے مطابق گورنر نے کہا کہ شمالی وزیرستان کی طرح امن و امان نہ پشاور میں ہے اور نہ ہی لاہور اور کراچی میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ عنقریب ہی شمالی وزیرستان کا دورہ کریں گے جس میں علاقے کی ترقی کے لیے کافی اعلانات متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرگے نے گورنر پر واضح کردیا کہ شمالی وزیرستان میں روس انقلاب کے دوران حقانی نیٹ ورک کے جنگجو موجود تھے اور اُس وقت وہ روس کے خلاف لڑ رہے تھے۔ لیکن اس وقت شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ کا کوئی جنگجو موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مُلا عمر شمالی وزیرستان میں نہیں بلکہ افغانستان میں ہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں رہنے والے مقامی جنگجو پُر امن اور مُحب وطن لوگ ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف نہ کبھی کارروائی کی ہے اور نہ آئندہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مولانا کے مطابق حکیم اللہ محسود اور فضل اللہ افغانستان کے علاقے کنڑ میں موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حافظ گل بہادر کی شوریٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر حکومت شمالی وزیرستان میں ترقیاتی کا کرنا چاہتی ہے تو وہ امن و امان کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ گل بہادر کی شوریٰ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث خواہ وہ مقامی ہوں یا غیر مُلکی اگر حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے تو وہ ان جنگجوؤں کی مدد نہیں کریں گے۔
یادرہے کہ مولانا گل رمضان شمالی وزیرستان میں ایک مشہور شخصیت ہیں۔ ان کے مقامی طالبان کے سربراہ حافظ گل بہادر سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں اور انتظامیہ کا مقامی طالبان کے ساتھ رابط کا ذریعہ بھی مولانا گل رمضان ہیں۔







