کلاچی کے بہادر سپاہی اور میٹھے خربوزے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
میں اپنے پڑھنے والوں کو ایک بات ضرور بتانا چاہتا ہوں کہ انھیں کلاچی جانے کی اس وقت تک کوئی صرورت نہیں ہے جب تک کہ انھیں بہادر سپاہیوں یا میٹھے خربوزوں کی ضرورت نہ ہو۔ یہ الفاظ تحصیل کلاچی کے بارے میں ایک انگریز مورخ ہربرٹ ایڈورڈز نے امپیریل گزٹ میں لکھے ہیں۔
اس گزٹ میں کلاچی کے بارے میں انتہائی اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
<link type="page"><caption> تحصیل کلاچی کے تھانے پر حملہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110625_kolchi_attack_pg_fz.shtml" platform="highweb"/></link>
قیامِ پاکستان سے کافی پہلے تحصیل کلاچی کی بڑی اہمیت تھی اور یہاں سے بھارت کے شہر کلکتہ تک تجارت کی جاتی تھی۔
اس وقت ڈیرہ سماعیل خان میں آباد ہندو تاجروں نے کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان اور بھارت کے مختلف شہروں میں تجارت کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی تھی۔
تحصیل کلاچی اب انتہائی پسماندہ شہر ہے اور بڑی تعداد میں یہاں سے لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں۔ پانی کی قلت کی وجہ سے یہاں کھیتی باڑی بڑے پیمانے پر نہیں ہو رہی، گرمیوں میں خربوزے کی فصل ہو جاتی ہے جس سے لوگوں کا کاروبار کچھ دنوں کے لیے چلتا رہتا ہے۔
ترقیاتی کام تو دور کی بات اس علاقے میں بنیادی سہولیات کا بھی فقدان ہے، پینے کے پانی کی قلت کے علاوہ صحت اور تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوب میں واقعہ تحصیل کلاچی تاریخی شہر ہے لیکن اہم شاہراہوں سے الگ تھلگ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈیرہ اسماعیل خان کے شمال میں ٹانک اور وانا روڈ بننے اور ادھر مغرب میں ڈیرہ اسماعیل خان سے درابن روڈ کی تعمیر کے بعد تحصیل کلاچی ایک تکون کے اندر بند ہو کر رہ گئی ہے۔
کلاچی شہر کے ایک جانب دامان وادی اور دوسری جانب کوہ سلیمان کا سلسلہ ہے۔
ماضی میں منصوبہ بندی کے تحت بننے والے اس تاریخی شہر کے جمع کے نشان کی طرح چار بازار ہیں اور اس کے مرکز واقع چوک کو چوگلہ کہا جاتا ہے جبکہ شہر کے ارد گرد ایک تاریخی فصیل اب بھی موجود ہے جس کے چھ بڑے دروازے ہیں۔
تحصیل کلاچی کی آبادی حالیہ سروے کے مطابق صرف چالیس ہزار ہے اور یہاں پرانے طرز کے بنے ہوئے بازار اور دکانیں ایسی تصویر پیش کرتے ہیں کہ جیسے انسان ٹائم مشین کے ذریعے ماضی میں چلا گیا ہو۔
اگرچہ مورخین کا کہنا ہے کہ کلاچی میں پہلے بلوچ آباد تھے لیکن بعد میں گنڈہ پور قبیلے نے یہاں جگہ بنائی تو بلوچ یہ علاقہ چھوڑ کر دیگر علاقوں میں آباد ہو گئے تھے۔
کلاچی کے مخصوص نداز کے بنے ہوئے خنجر اور تِلے دار چپلی جوتا مقامی سطح پر کافی مقبول ہیں لیکن اب خنجر بنانے کا کاروبار علاقے میں ختم ہو رہا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا عنایت اللہ خان گنڈہ پور اور تحریک پاکستان کے اہم رہنما سردار اورنگزیب خان گنڈہ پور کا تعلق کلاچی سے تھا۔
اس وقت بھی سردار عنایت اللہ خان گنڈہ پور کے بیٹے اسرار گنڈہ پور اس علاقے سے صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب نمائندے ہیں لیکن اس علاقے کی ترقی کے لیے کوئی کام نہیں کیے گئے۔
ایک اہم بات یہ بھی مقامی لوگوں سے معلوم ہوئی ہے کہ گنڈہ پور خاندان نے یہاں مقامی لوگوں کو پابند کر دیا ہے کہ وہ اپنی زمین کسی غیر کلاچی کو فروخت نہیں کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کی نہ کوئی سرمایہ کاری ہے اور نہ ہی ان کی آبادی یہاں پر ہے۔
اس کے مقابلے میں ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں وزیرستان ایجنسی سے آنے والے محسود، وزیر قبائل، لکی مروت سے آنے والے مروت قبیلے کے لوگوں نے بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس سے مقامی آبادی کو اگر کچھ فوائد مل رہے ہیں تو دوسری جانب اس کے نقصانات بھی ہیں۔
گومل زام ڈیم کی تعمیر سے کلاچی کی وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی بنجر زمین سیراب ہو سکے گی جس سے توقع کی جاتی ہے کہ اس علاقے میں کھیتی باڑی کو فائدہ ہوگا۔ کلاچی کی بیشتر زمین اس وقت بارانی ہے، بارشیں ہو جائیں تو سیرابی وگرنہ ویرانی ہی ویرانی ہوتی ہے۔







