گیارہ برس بعد خاندان ایک ہوا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

    • مصنف, جعفر رضوی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

جوہری اسلحہ سے لیس پڑوسی ممالک پاکستان اور بھارت نے کیشدگی کے خاتمے کے لیے جمعرات سے اسلام آباد میں مذاکرات شروع کیے ہیں۔ ایک طرف ان مذاکرات کے لیے بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپما راؤ کی اسلام آباد میں آمد ہوئی تو دوسری جانب کراچی کے ایک پاکستانی خاندان کے بھارت میں رہ جانے والے پانچ بچے بھی گیارہ برس بعد اپنے والدین سے بالآخر آ ملے۔

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن سیکٹر سیون ڈی کے پراپرٹی ڈیلر محمد شاہد کی کہانی سنہ دو ہزار میں اس وقت شروع ہوئی جب وہ اپنی اہلیہ نجمہ پروین اور چھ بچوں کے ہمراہ رشتہ داروں سے ملنے بھارتی شہر میرٹھ گئے۔

محمد شاہد کو جے پور میں گرفتار کرلیا گیا۔ محمد شاہد کے بقول انہیں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا مگر الزام جھوٹا ثابت ہوا۔ محمد شاہد کے بعد ان کی اہلیہ نجمہ پروین کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ دو ہزار چھ میں نجمہ پروین کو رہا کردیا گیا۔

والدین کی تو رہائی ہو گئی لیکن اس خاندان کی مشکلات ختم نہیں بلکہ شروع ہوئی تھیں۔ نجمہ کو رہائی کے بعد اجازت نہ ملی کہ میرٹھ میں ننھیال کے ساتھ رہ جانے والے بچوں کو وہ اپنے ہمراہ پاکستان واپس لاسکتیں۔

کراچی پہنچنے پر نجمہ پروین نے اپنے بچوں کی واپسی کے لیے پاکستانی حکام اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان سے رابطہ کرکے انہیں ساری داستان سنائی۔

ان بچوں میں سب سے بڑا بچہ حمزہ تھا جو انیس سو پچانوے میں پیدا ہوا اور بیماری کی وجہ سے میرٹھ میں انتقال کرگیا۔ دیگر تین بیٹیاں نشاط، جڑواں بیٹیاں رابعہ اور سامیعہ اور دو بیٹے فارس اور رانس میرٹھ میں والد کے رشتہ دار ماجد کے پاس رہتے رہے۔

حکام اور انسانی حقوق کمیشن کی کوششوں کے نتیجے میں محمد شاہد دو ہزار دس میں رہا ہوکر پاکستان پہنچے۔ مگر دونوں ماں باپ اپنے بچوں سے اب بھی دور تھے۔

انسانی حقوق کمیشن سے منسلک راؤ عابد نے بتایا کہ بھارت جاتے وقت بچے طریقۂ کار کے مطابق والدہ نجمہ پروین کے پاسپورٹ پر رجسٹر ہوکر گئے تھے۔ لیکن اب حکام کا کہنا تھا کہ ان کی عمریں اتنی ہوچکی ہیں کہ بغیر پاسپورٹ سفر نہیں کرسکتے۔

بالآخر بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن سے پاسپورٹس بنے۔ لیکن مشکلات اب بھی ختم نہیں ہوسکی تھیں۔

انسانی حقوق سے منسلک راؤ عابد کے مطابق غالباً جاتے وقت چونکہ انٹری پوائنٹ واہگہ تھا، جو بذریعہ سڑک جانے کا راستہ ہے، اور اب چونکہ ان بچوں کی وطن واپسی بذریعہ ہوائی جہاز ہورہی ہے تو یہ قانونی تقاضہ بھی پورا کیا گیا۔

اب جب یہ بچے دس برس بعد اپنے والدین تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکے تو ان کی والدہ نجمہ ذیابیطس کی مریضہ ہیں، والد محمد شاہد ٹانگ کی ٹوٹ جانےسے ان کا کاروبار بھی تباہ و برباد ہوچکا ہے، اورگزر اوقات کے لیے انہوں نے پرچون کی دکان کھول لی ہے۔

گیارہ برس بعد ہی صحیح یہ بچے آج وطن واپس پہنچ تو گئے اور اپنے والدین سے مل لیے، مگر بھارت میں اٹھارہ برس سے قید ڈاکٹر چشتی اور پاکستان میں اکیس برس سے قید سربجیت سنگھ جیسی کئی مثالوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک کے تعلقات کی نوعیت جانی جاسکتی ہے۔