’جوڈیشل کمیشن کی یاد دہانی کے لیے خط‘

حکومتِ بلوچستان نے بلوچ قوم پرست رہنماء نواب محمد اکبر خان بگٹی کے قتل کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کو جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کے بارے میں خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبائی حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود وفاقی حکومت کا اعلان کردہ کمیشن قائم نہیں ہو سکا ہے۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق یہ فیصلہ سنیچر کو کوئٹہ میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا ہے۔
اجلاس کی صدارت چیف سیکرٹری بلوچستان احمد بخش لہڑی نے کی۔
اجلاس میں صوبائی سیکرٹری داخلہ ظفر بلوچ، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی وزارت داخلہ و قبائلی امور آئندہ دو دنوں میں وفاقی حکومت کو اس اعلان کی یاد دہانی کرائے گی جس میں کہا جائے گا کہ چوبیس نومبر سال دو ہزار نو میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر رضا ربانی نے آغازِ حقوق بلوچستان پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے نواب بگٹی قتل کیس کی تحقیقات کرانے کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے گا۔
لیکن ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے یہ تحقیقاتی کمیشن قائم نہیں ہو سکا ہے۔
خیال رہے کہ حکومت بلوچستان نے خط تحریر کرنے کا فیصلہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز کی جانب سے نواب بگٹی قتل کیس میں حکومت کی جانب سے پیش رفت نہ ہونے پر براہمی کا اظہار کرنے کے بعد کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ دس روز قبل نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن دائر کی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے والد کو چھبیس اگست سال دو ہزار چھ میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا تھا لیکن آج تک ان کے قاتل گرفتار نہیں ہو سکے ہیں۔
درخواست میں انہوں نے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنر ل پرویز مشرف، سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ، بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ میرجام محمد یوسف اور سابق صوبائی وزیرِ داخلہ میرشعیب نوشیروانی کو نواب بگٹی قتل کیس میں گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔







