دتہ خیل، ڈرون حملے میں تین ہلاک

فائل فوٹو، ڈرون طیارہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے سب سے زیادہ ہو رہے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق ایک امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں تین شدت پسند مارے گئے۔

میرانشاہ میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ جمعہ کو تین بجکر پچپن منٹ پر میرانشاہ سے چالیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل دتہ خیل میں امریکی جاسوس طیارے نے ایک مشکوک گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ دتہ خیل بازار سےگاؤں ڈوگہ پائی خیل کی طرف جارہی تھی۔

اس حملے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور اس میں سوار تین افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

اہلکار کے مطابق امریکی جاسوس طیارے سے ایک میزائل فائر کیا گیا جس نے پہاڑی نالے میں گاڑی کو نشانہ بنایا۔اہلکار کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے بعد مقامی لوگوں نے گاڑی سے لاشیں نکال لی ہیں۔ تاہم کوئی بھی لاش شناخت کے قابل نہیں ہے۔

اہلکار نے مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا کہ گاڑی ’شدت پسندوں کی تھی لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ شدت پسندوں کا تعلق کس گروپ ہے۔تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ شدت پسند مقامی تھے۔‘

شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے سب سے زیادہ ہور رہے ہیں جہاں مقامی طالبان کے علاوہ پنجابی طالبان اور غیر مُلکی بھی نشانہ بنے ہیں۔یہ علاقہ افغان سرحد کے قریب ہے جس میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے کے علاوہ سرحدی چیک پوسٹوں پر جھڑپوں کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔