شمالی وزیرستان: ڈرون حملوں میں بارہ ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں ہونے والے ڈرون حملوں میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی جاسوس طیاروں نے پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی ہے۔
حکام کے مطابق یہ حملے شمالی وزیرستان ایجنسی کی تحصیل دتہ خیل سے پانچ کلومیٹر دور دواتوئی کے مقام پر دوپہر دو بجے کے لگ بھگ کیے گئے۔
حکام نے بتایا کہ دو امریکی جاسوس طیاروں نے آٹھ میزائل داغے جس میں دو مکان اور ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
میرانشاہ سے پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ گاڑی پر دو میزائل داغے گئے ہیں جس سے گاڑی میں سوار سات مشتبہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق دو مکانوں پر چھ میزائل لگے ہیں جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ پانچوں افراد مقامی شہری تھے۔
اس حملے سے پہلے اور حملے کے بعد بھی امریکی جاسوس طیارے فضا میں گشت کرتے رہے جس سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
امریکہ پاکستان پر کافی عرصہ سے یہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ شمالی وزیرستان ایجنسی میں مکمل فوجی آپریشن کیا جائے لیکن پاکستان کی جانب سے اب تک اس ایجنسی میں فوجی آپریشن نہیں کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دیگر قبائلی ایجنسیوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوجی آپریشن کیے ہیں جہاں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ جنوبی وزیرستان، باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں کیے گئے فوجی آپریشن کے متاثرہ افراد اب تک اپنے علاقوں کو واپس نہیں جا سکے اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔







