
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کے بعد مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اور متاثرہ خاندان اس طرح کے قتل کی ذمہ داری سیکورٹی فورسز پر عائد کرتے ہیں۔ جبکہ سیکورٹی فورسز ایسے الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔ ’بلوچ نیشنل وائس‘ نامی ایک تنظیم کے سرکردہ کارکن نصراللہ بلوچ کہتے ہیں کہ جون سنہ دو ہزار دس سے بارہ اپریل سنہ دو ہزار گیارہ تک بلوچستان کے مختلف شہروں سے ایک سو ستائیس سیاسی کارکنوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
گزشتہ دنوں کوئٹہ پریس کلب میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد کے کچھ لواحقین سے بات ہوئی۔ سب ہی سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہی ان ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرا رہے تھے۔
لال بی بی: میرے جوان بیٹے علی احمد مری کو بازار سے سیکیورٹی فورسز والے اٹھا کر لے گئے اور چھ ماہ بعد اس کی لاش ملی۔ لاش مسخ شدہ تھی اور اس کے سر میں ‘ڈِرل’ کر کے مارا گیا۔ میرا بیٹا دہاڑی کی مزدوری کرتا تھا اور اکیلا کمانے والا تھا۔ ہم پریشان ہیں لیکن مجھے اپنے بیٹے کے مرنے پر رنج نہیں ہے۔ میرے پانچ بیٹے اور بھی ہیں اور وہ بھی بلوچستان پر قربان کردوں گی۔
سحرش بلوچ: میرا بھائی زبیر احمد گریجوئیشن کر رہا تھا کہ انہیں گھر سے اٹھایا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور بعض اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہیں۔ میں پوچھتی ہوں کہ جو ایسے کام کرتے ہیں وہ گھر میں بیٹھتے ہیں کہ آؤ مجھے پکڑو اور تشدد کرکے مار دو۔ وزیر اعلیٰ سے رابطہ کیا انہوں نے بتایا کہ وہ سیکیورٹی ایجنسیز کے پاس ہے، چھوڑ دیں گے لیکن ان کی ہمیں مسخ شدہ لاش ملی۔ جس ملک میں ہماری عزت، جان مال محفوظ نہ ہو ہمیں ایسا ملک نہیں چاہیے۔

’مستونگ جاتے ہوئے میرے بھانجے کو اٹھا لیا گیا‘
جنگی خان بلوچ: میرے بھانجے عصمت اللہ کو نومبر سنہ دو ہزار دس کو مستونگ میں اپنے گاؤں جاتے ہوئے سیکورٹی فورسز والے اٹھا کر لے گئے اور عید کے روز اس کی مسخ شدہ لاش ملی۔ وہ پلمبر تھا اس کی انگلیوں، گھٹنوں اور پاؤں پر بجلی کے کرنٹ اور جسم پر سگریٹ کے داغوں کے نشان تھے اور کان کے اوپر سر میں گولی مار کر اسے قتل کیا گیا۔ اس کا تعلق بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائئزیشن (بی ایس او، آزاد) سے تھا۔
ہاجراں بی بی: میرے شوہر شاہجہاں کوگزشتہ برس تیرہ جون کو اغوا کیا گیا اور پندرہ اگست کو ان کی لاش ملی۔ میرے شوہر کی پرچون کی دکان تھی اور انہیں دکان پر جاتے ہوئے اٹھایا گیا تھا۔ میرے تین معصوم بچے ہیں پتہ نہیں ان کا کیا بنےگا۔ (اس کے ساتھ ہی وہ رو پڑیں تو ان کا چار سالہ بیٹا بھی دھاڑیں مار کر رونے لگا۔)
گوہری بی بی: میرا بیٹا فیض محمد کراچی میں مزدوری کرتا تھا اور ہم سے ملنے کوئٹہ آیا تو رات کو انہیں ایجنسیوں والے اٹھا کر لے گئے۔ مجھے کوئی ارمان نہیں کیونکہ میرے بیٹے نے وطن کے لیے جان دی ہے۔ میری ایک چھوٹی بیٹی ہے، میں وہ بھی وطن کے لیے قربان کرنے کو تیار ہوں۔

’ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم بلوچستان کی آزادی چاہتے ہیں‘
گل رخ بلوچ: میں بی ایڈ کی طالبہ ہوں اور میرے بھائی حمید شاہین کو رواں سال بیس مارچ کو کوئٹہ سے کراچی جاتے ہوئے کوچ سے اتار کر انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکار لے گئے۔ چوبیس گھنٹے بعد ان کی ہمیں لاش ملی۔ وہ بیمار تھے علاج کے لیے کراچی جا رہے تھے۔ وہ گوادر میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے ملازم تھے۔ ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم بلوچستان کی آزادی چاہتے ہیں۔ حمید شاہین کے سات سالہ بیٹے بیرم بلوچ سے جب پوچھا کہ وہ بڑا ہو کر کیا بنیں گے تو انہوں نے کہا ‘سرماچار’ یعنی بلوچستان کی آزادی کے لیے اپنی جان کی قربانی دوں گا۔ حمید شاہین کی بہن گل رخ نے اپنے بھائی کے لیے ایک شعر بھی پڑھا۔
’میرے کاررواں میں کوئی تنگ نظر نہیں ہے۔۔۔جو مٹ نہ سکے وطن پر وہ میرا ہمسفر نہیں ہے۔‘
زمان مری ایڈووکیٹ کی صاحبزادی نے بتایا کہ ان کے والد کو اغوا کے بعد ان کے سر میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ ہم چھ بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ مجھے اپنے والد کی قربانی پر فخر ہے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
بلوچستان میں فرنٹیئر کور یعنی ایف سی کے سربراہ میجر جنرل عبید اللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے پڑوسی ممالک بلوچ شدت پسندوں کو تربیت، اسلحہ اور پیسہ فراہم کرتے ہیں اور اس بات کے ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
یہ بات انہوں نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتائی لیکن کوئی ثبوت فراہم کرنے یا کسی پڑوسی ملک کا نام لینے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’میں ایک فوجی افسر ہوں۔یہ کام حکومت کا ہے۔‘
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایف سی کا کوئی ’ڈیتھ سکواڈ‘ ہے اور نہ ہی ان کے اہلکار ماورائے عدالت قتل یا ’ٹارگٹ کلنگ‘ میں ملوث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سیاسی کارکنوں کے اغوا کے بعد تشدد کر کے قتل کرنے کے خلاف ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ریاست دشمن بلوچ عناصر ایف سی کی وردیاں پہن کر اغوا اور قتل کی وارداتیں کرتے ہیں تاکہ ایف سی کو بدنام کیا جاسکے۔ ان کے مطابق شدت پسندوں کا پروپیگنڈہ مضبوط ہے اور وہ میڈیا پر دباؤ ڈال کر ایف سی کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کی خبریں شائع کرواتے ہیں اور ایف سی کے پاس ان کے پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے وقت ہے اور نہ ہی وسائل۔
فرنٹیئر کور کے سربراہ نے ایک موقع پر یہ بھی کہا کہ بلوچستان کے حالات غیر معمولی ہیں اس لیے سیکورٹی انتظامات بھی غیر معمولی ہونے چاہیئں۔
انہوں نے کہا کہ جب ریاست کے ادارے اور عدالتی نظام کمزور پڑ جائیں تو معاشرے کے اندر ایسی قوتیں پیدا ہوجاتی ہیں جو خود اسلحہ اٹھا لیتی ہیں۔
ریاست دشمن بلوچ عناصر ایف سی کی وردیاں پہن کر اغوا اور قتل کی وارداتیں کرتے ہیں تاکہ ایف سی کو بدنام کیا جاسکے۔ ان کے مطابق شدت پسندوں کا پروپیگنڈہ مضبوط ہے اور وہ میڈیا پر دباؤ ڈال کر ایف سی کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کی خبریں شائع کرواتے ہیں اور ایف سی کے پاس ان کے پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے وقت ہے اور نہ ہی وسائل۔
میجر جنرل عبیداللہ خان
جب ان سے پوچھا کہ اگر ایسا ہے تو کیا یہ ایف سی سمیت تمام سیکورٹی ایجنسیوں کی ناکامی اور نا اہلی نہیں کہ کھلم کھلا ایسے گروہ لوگوں کو اغوا اور قتل کریں اور سیکورٹی فورسز ان کو روک نہ سکیں۔ جس پر انہوں نے کہا کہ ایف سی کے پاس ایسے لوگوں کو ڈھونڈنے، تحقیقات کرنے یا سزا دلوانے کا اختیار یا نظام نہیں ہے یہ کام پولیس اور دیگر اداروں کا ہے۔
’میں اپنے ادارے کی بات کرتا ہوں کہ ایف سی سیاسی کارکنوں کے اغوا یا قتل میں ملوث نہیں ہے‘۔ جب ان سے پوچھا کہ کیا پھر یہ کام انٹیلیجنس ایجنسیاں یا دوسری فورسز کرتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ فرنٹیئر کور کا بنیادی کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے لیکن وہ تو پورے بلوچستان میں پھیل گئے ہیں، تو انہوں نے یہ بات تسلیم کی اور کہا وہ صوبائی حکومت کی درخواست پر ان کی مدد کے لیے آئے ہیں۔
جب ان کی توجہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے کچھ عرصہ قبل جاری کردہ اس بیان کی طرف دلوائی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ تھا کہ بلوچستان میں وزیرِ اعلیٰ سے زیادہ طاقتور ایف سی کا کرنل ہے تو میجر جنرل عبیداللہ خان نے کہا کہ اب ایسی بات نہیں اور ان کے رئیسانی صاحب سے اچھے تعلقات ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں کہ ایف سی کی کارروائیوں کی وجہ سے بلوچ شدت پسندوں کی تعداد اور ان کی ہمدردی میں اضافہ ہو رہا اور ایف سی کی ساکھ خراب ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ ’ایف سی کوئی جمہوری فورس نہیں۔۔۔ ساکھ کا مسئلہ تو ہوتا ہے لیکن ہمارا کام ریاست کی رٹ برقرار رکھنا ہے‘۔
انہوں نے شدت پسندوں کی تعداد تو نہیں بتائی لیکن اتنا ضرور کہا کہ ان میں کچھ نظریاتی لوگ ہیں اور کچھ روزگار کی خاطر یہ کرتے ہیں۔ جو نظریاتی لوگ ہیں وہ پاکستان سے علیحدگی چاہتے ہیں اور وہ بیرونی قوتوں کے اشارے پر کام کر رہے ہیں اور ان سے لڑنا ہوگا۔ جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ تنخواہ کی وجہ سے ان کے ساتھ ہیں ان کو متبادل ذرائع مہیا کرنے ہوں گے۔
میجر جنرل عبیداللہ خان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بلوچوں کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا ہے اور بے روزگار نوجوان بلوچ ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے ’ملک دشمن بلوچ عناصر‘ کے ساتھ دس بیس ہزار کی تنخواہ کی خاطر مل جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ تین برس تک ہر سال بلوچستان کے ایک ہزار نوجوانوں کو ایف سی میں بھرتی کریں گے۔ ان کے بقول بلوچ نوجوانوں کی بھرتی کے لیے عمر، تعلیمی قابلیت اور جسامت کے معاملات میں رعایت دی جائے گی۔
واضح رہے کہ اڑتالیس ہزار نفری والی بلوچستان کی اس فورس ’ایف سی‘ میں بلوچ نہ ہونے کے برابر ہیں اور زیادہ تر اہلکار یا افسر خیبر پختونخوا کے پشتون ہیں۔ جبکہ دوسرے نمبر پر پنجاب کے اہلکار ہیں جس میں جنوبی پنجاب کے بعض بلوچ قبائل کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

کوئٹہ کے ہوائی اڈے سے باہر آئے تو پارکنگ میں فوجی گاڑیاں قطار میں کھڑی نظر آئیں، ہم تو ان سے پہلے روانہ ہوئے لیکن راستے میں وہ تیز رفتاری کی وجہ سے ہم سے آگے نکل گئیں۔
ایک قافلے کی صورت میں چلنے والی ان گاڑیوں میں مسلح فوجی بندوقیں تانے چوکس بیٹھے رہے اور آس پاس چلنے والی گاڑیوں اور ان میں بیٹھے لوگوں کو باز کی نظروں سے دیکھتے رہے۔
معلوم ہوا کہ گزشتہ کچھ ماہ سے فوج اور نیم فوجی فورس فرنٹیئر کور (ایف سی) والے شدت پسند بلوچوں کے حملوں کی وجہ سے کم از کم دو گاڑیوں کے قافلوں کی صورت میں گشت کرتے ہیں۔ کیونکہ اگر ایک گاڑی پر حملہ ہو تو دوسری گاڑی ’بیک اپ‘ فراہم کرے۔
ظاہر ہے کہ اس سے سیکورٹی فورسز کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ لیکن بعض مقامی بلوچ رہنماؤں سے بات ہوئی تو انہوں نے ’ایف سی‘ پر الزام لگایا کہ وہ تیل بیچتے ہیں۔ ان سے ثبوت مانگا تو انہوں نے کہا کہ ’چور رسید نہیں دیتا‘۔ مگر ایف سی والے ایسے الزام کو من گھڑت کہتے ہوئے رد کرتے ہیں۔
لیکن یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کوئٹہ شہر میں کئی مقامات پر تیل بیچنے کی دکانیں قائم ہیں۔ یہاں عام پیٹرول پمپ کی نسبت پیٹرول یا ڈیزل دس روپے فی لٹر سستا بِکتا ہے۔ ایسی دکانوں کے متعلق مشہور ہے کہ یہاں ایران سے سمگل کیا ہوا تیل بیچا جاتا ہے۔
پہلے جب فوج یا ایف سی کے اہلکار گشت کرتے تھے یا ان کی گاڑیاں سڑک پر چلتیں تو لوگ اپنی گاڑیاں ان کے ساتھ لگا لیتے۔ کیونکہ وہ ایسا کرتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے۔ لیکن آج کل جہاں سے سیکورٹی فورسز کی گاڑیاں گزرتی ہیں تو لوگ ان سے اپنی گاڑیاں دور کرلیتے ہیں۔
جس کی ایک وجہ تو وہ خوف ہے کہ اگر کسی فورس کی گاڑی پر حملہ ہوا تو انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ سیکورٹی فورسز والے خود بھی خوف کی وجہ سے اپنی گاڑیوں کے قریب عام لوگوں کی گاڑیوں کو آنے نہیں دیتے۔
کوئٹہ شہر کی مختلف سڑکوں اور بازاروں میں ویسے تو زندگی معمول کے مطابق دکھائی دیتی ہے لیکن خوف کا ماحول ضرور موجود ہے۔ پٹھان آبادی والے علاقے قدرِ محفوظ سمجھے جاتے ہیں لیکن بلوچ آبادیوں والے علاقوں میں عام لوگ تو کجا سیکورٹی فورسز والے بھی کلمہ پڑھ کر گزرتے ہیں۔
پریس کلب میں دس کے قریب ایسے افراد کے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی جن کے عزیز و اقارب کو ان کے بقول سیکیورٹی فورسز نے اغوا کرکے قتل کیا اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینک دیں۔
مقتولین کے ورثا میں اکثریت خواتین کی تھی اور بلوچ معاشرے میں خواتین کا اس طرح ذرائع ابلاغ کے سامنے آنا قابل ذکر تبدیلی ہے۔ مقتولین کی ماؤں، بہنوں سے بات چیت کے دوران اس بار ایک بڑی تبدیلی یہ نظر آئی کہ کسی ایک نے بھی حکومت یا عدلیہ سمیت کسی اور ادارے سے انصاف کی اپیل تک نہیں کی۔ بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔
لیکن اس کے باوجود بھی وہ مایوس نظر نہیں آئے بلکہ وہاں موجود تمام اہل خانہ جس میں ان پڑھ بلوچ خواتین بھی شامل تھیں، انہوں نے کہا کہ ’ہمارے بچے شہید ہیں اور آزاد بلوچستان کے لیے اپنے دیگر بچے بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔‘
انہوں نے اپنے مقتول پیاروں کی مسخ شدہ لاشوں کے جو قصے سنائے وہ بہت دردناک تھے۔ کسی نے کہا کہ ان کے پیارے کو آنکھ میں گولی ماری گئی تو کسی کو سینے میں ڈرل کرکے قتل کیا گیا، کسی لاش کے دانت سلامت نہیں تھے تو کسی کے جسم پر سگریٹ اور بجلی کے جھٹکوں کے نشان تھے۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔