لاپتہ افراد: کمیشن کے پاس مزید درخواستیں

لاپتہ افراد کے لواحقین: فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکمیشن کے بقول نو لاپتہ افراد بازیاب ہو چکے ہیں

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے لاپتہ افراد کومنظرعام پر لانے کے لیے قائم کمیشن نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین سے مزید درخواستین وصول کی ہیں جن کو لاپتہ افراد سے متعلق کیس کے آئندہ اجلاس میں سپریم کورٹ میں پیش کیا جائےگا۔

کمیشن کے بقول اب تک نو افراد بازیاب ہوکر گھروں کو جا چکے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق جج (ر)جسٹس جناب فضل الرحمن کی سربراہی میں قائم لاپتہ افراد سے متعلق نئے کمیشن کا پانچ روزہ اجلاس جمعہ کو کوئٹہ میں اختتام پذیرہوا۔ اس دوران کمیشن نے مختلف مقدمات کی سماعت کی۔ اجلاس کے دوران پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں اور دیگر سیکورٹی فورسز کے نمائندے بھی موجود رہے۔

کمیشن کے سیکریٹری فرید احمد خان نے اجلاس کے بعد بتایا کہ آخری روز بھی نو لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

فرید احمد خان نے کہا کہ کمیشن کے سربراہ (ر) جسٹس فضل الرحمن کو ہائی کورٹ کےجج کے برابر اختیارات حاصل ہیں اور اگر کوئی ادارہ یا حکومتی اہلکار کمیشن کی ہدایات پر عمل نہیں کرے گا تواس کوتوہین عدالت کے تحت کمیشن موقع پر سزا دے سکتا ہے۔

بقول فرید احمد خان کے سماعت کےدوران نو لاپتہ افراد منظرعام پر آئے جو اپنے اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں، جبکہ دو افراد ایسے تھے جو تاوان کے لیے اغوا ہوئے۔ اس کے علاوہ ایک لاپتہ شخص کی والدہ نے کمیشن سے درخواست واپس لی ہے، جبکہ باقی درخواستوں کو لاپتہ افراد سے متعلق سپریم کورٹ کے آئندہ اجلاس میں سماعت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے لاپتہ افراد کے بارے میں قائم کمیشن اسلام آباد اور کوئٹہ کے بعد کل سے کراچی میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے دائر درخواستوں پر غور کرے گا۔

سیکریٹری کے مطابق کمیشن کی جانب سے لواحقین کی درخواستوں پر اس وقت تک کام جاری رہے گا جب تک پورے بلوچستان میں تمام لاپتہ افراد منظرعام پر نہیں آ جاتے۔

خیال رہے کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے کوئٹہ اور کراچی کے بعد ان دنوں اسلام آباد میں بھوک ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے جس میں لاپتہ افراد کے لواحقین میں سے خواتین اور بچے بھی شرکت کر رہے ہیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق بلوچستان میں جنرل پرویزمشرف کے دور حکومت سے لیکر اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ لوگ لاپتہ ہو چکے ہیں۔ جبکہ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد چند سوسے زیادہ نہیں ہے۔