’بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کو روکا جائے‘

عدالت نے اس درخواست پر سماعت چار ہفتوں تک کے لیے ملتوی کر دی
،تصویر کا کیپشنعدالت نے اس درخواست پر سماعت چار ہفتوں تک کے لیے ملتوی کر دی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بلوچستان کی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ حساس اداروں کے ساتھ مل کر بدامنی اور صوبے میں مسلسل خراب ہو رہی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔

منگل کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے یہ حکم بلوچستان میں بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف دائر کی گئی ایک درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔

بلوچستان کے چیف سیکریٹری احمد بخش لہڑی، ایڈووکیٹ جنرل صلاح الدین مینگل اور درخواست گزار ایڈووکیٹ ہادی شکیل عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

<link type="page"><caption> بلوچوں پر زیادتیوں کی کھلی چھوٹ ہے: ایمنسٹی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/02/110223_balochistan_amnesty_as.shtml" platform="highweb"/></link>

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال کافی خراب ہو چکی ہے اور بڑے پیمانے پر لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے اور کئی لوگ صوبہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

انہوں نے صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ وہ صوبے میں بدامنی پر قابو پائے اور ٹارگٹ کلنگ کو فوراً روکا جائے تاکہ صوبے میں معاشی سرگرمیاں شروع ہو سکیں۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل صلاح الدین مینگل عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر عدالت میں ایک رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کچھ دن پہلے ضلع نصیرآباد سے جن جج صاحبان کو اغوا کیا گیا تھا انہیں بازیاب کرایا جا چکا ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل صلاح الدین مینگل نے گزشتہ سماعت کے دوران عدالت میں ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ’ روزانہ لاشیں برآمد ہو رہی ہیں اور پولیس اور ایف سی کے اہلکار اپنی مرضی سے دن کی روشنی میں لوگوں کو اٹھا لیتے ہیں۔ اس معاملے پر صوبائی حکومت بے بس ہے۔‘

چیف جسٹس افتخار چودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ تو کہتی ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے لیکن ریل گاڑیوں اور گیس کی پائپ لائنوں پر حملے ہو رہے ہیں اور افسوس اس بات ہے کہ وفاقی حکومت معاملے کی سنگینی کو سمجھ نہیں رہی ہے۔

بلوچستان کے چیف سیکریٹری احمد بخش لہڑی نے چیف جسٹس کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر اتفاق کرتے ہیں کہ بلوچستان کی صورتحال تشویشناک ہے اور گزشتہ دو ماہ سے صورتحال بدتر ہے۔ ان کے مطابق دو ہزار دس میں حالات کافی بہتر ہو گئے تھے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں حکومت نے کئی اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔

چیف سیکریٹری نے کہا کہ اس حکومت نے صوبے میں پانچ ہزار ملازمتیں بھی دی ہیں۔

عدالت نے اس درخواست پر سماعت چار ہفتوں تک کےلیے ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ یہ درخواست بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ ہادی شکیل نے دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بلوچستان میں صورتحال کافی تشویشناک ہو گئی ہے اور بدامنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس میں عام لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ صوبے میں عام افراد اغوا ہو رہے ہیں اور ان وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور صوبے میں جج میں بھی محفوظ نہیں ہے اور انہیں بھی اغوا کیا جا رہا ہے۔