لاپتہ افراد: وزارء اور اعلیٰ حکام عدالت طلب

سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ سمیت چاروں صوبائی وزرائے داخلہ، اسلام آباد اور چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں اور ہوم سیکریٹریز کو طلب کرلیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی حکومت وقت کا کام ہے تاہم اگر لاپتہ افراد کے مقدمات میں واضح ثبوتوں کے باوجود ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو عدالت صوبائی پولیس کے سربراہوں کے خلاف مقدمات درج کروائے گی۔
اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاپتہ افراد سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ لاپتہ افراد سے متعلق بنائے جانے والے کمیشن کی کارکردگی متاثر کُن نہیں ہے۔
جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ خفیہ ادارے اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کسی طور پر بھی کسی بھی شخص کو اپنی تحویل میں رکھنے کے مجاز نہیں ہیں۔
بینچ میں شامل جسٹس راجہ فیاض نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ پارلیمنٹ میں کیوں نہیں لیکر جایا جاتا جس پر ڈیفینس آف ہومین رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا کوئی بھی رکن خفیہ ایجنسیوں کے خلاف کوئی بات نہیں کرے گا۔
جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ خفیہ ایجسنیوں کے متعلہ حکام کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے اب ارباب اختیار کو عدالت میں طلب کیا جائے گا اور اُن سے پوچھا جائے گا کہ اُنہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیا اقدامات کیے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی مداخلت پر اب تک دو سو بائیس افراد کو بازیاب کروایا جاچکا ہے جبکہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے جانے والے کمیشن نے ایک سو تیرہ افراد بازیاب کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبہ بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثاء نے عدالت کو بتایا کہ اُنہوں نے اپنے ورثاء کے بارے میں وزیر اعلی کو آگاہ کیا تھا تاہم وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اُنہیں اس ضمن میں آگاہ کیا ہے۔ ان افراد کے ورثاء کا کہنا تھا کہ وہ ابھی تک بازیاب نہیں ہوئے۔

عدالت نے لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق بنائے جانے والے کمیشن سے کہا کہ وہ صرف صوبائی دارالحکومتوں کا ہی دورہ نہ کریں بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں میں جاکر لاپتہ افراد کے ورثاء سے ملاقاتیں کریں اور اُن کی دادرسی کرنے کی کوشش کریں۔
جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور عدالت اس معاملے کو اب طول نہیں دینا چاہتی۔ اُنہوں نے کہا کہ عدالت اس معاملے پر جلد فیصلہ دے گی۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت دو ہفتوں تک کے لیے ملتوی کر دی۔







