لاپتہ افراد کےاہل خانہ ذہنی اذیت کا شکار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے انسانی حقوق اور بلوچ تنظیموں کی تحریک جاری ہے، جس میں ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ بھی شریک ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بدھ کو کراچی میں احتجاج کے دوران لاپتہ افراد کے اہل خانہ اور خاص طور پر ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے جذبات اور احساسات زیادہ تکلیف دہ نظر آ رہے تھے، جن کی سوچوں اور خیالوں کا محور صرف ان کے لاپتہ رشتے دار ہیں۔

ہانی بلوچ کے والد سفیر بلوچ گزشتہ سال پندرہ اگست کو اس وقت سول ہپستال پنجگور سے لاپتہ ہوگئے جب وہ دوا لینے گئے تھے۔ ہانی پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔

’گمشدگی سے لیکر اب تک ہمارا کوئی بھی معاشی ذریعہ نہیں ہے، صرف وہ ہی ہمارے خاندان کے کفیل تھے ان کی تو تنخواہ بھی بند کر دی گئی ہے، ان کے بغیر کوئی رہنمائی کرنے والا بھی نہیں ہے۔‘

ذاکر مجید آٹھ جون دو ہزار آٹھ کو مستونگ سے لاپتہ ہوئے، ان کی بہن شبانہ بلوچ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے تمام کوششوں کو بروئے کار لاچکی ہیں۔

’میری والدہ دل کے عارضے میں مبتلا ہو چکی ہیں، نفسیاتی طور پر ہماری سوچ محدود ہوگئی ہے، ہم نہ کون سے پڑھ سکتے اور نہ باہر جا سکتے ہیں۔ والدہ کی جو حالت دیکھ رہے ہیں اس سے بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ جو مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں وہ الگ اذیت میں اضافہ کرتی ہیں اور بار بار یہ خیال آتا ہے کہ کہیں ہمارے بھائی کی مسخ شدہ لاش نہ مل جائے۔‘

نوجوان سمیر رند پچھلے سال چودہ اکتوبر کو لاپتہ ہوئے، ان کی بہن سنیعا رند بتاتی ہیں کہ سمیر کو گھر سے مبینہ طور پر اہلکار اٹھاکر لے گئے تھے۔

’اس کو اگر تھوڑی چوٹ لگتی تھی تو ماں باپ برداشت نہیں کر پاتے تھے۔ آج ٹارچر سیلوں میں اس کے ساتھ معلوم نہیں کیا سلوک کیا جا رہا ہے، میرے بھائی کا قصور کیا ہے واقعی وہ مجرم ہے بھی یا نہیں اسے عدالت میں لاؤ، اس طرح بلوچوں کے گھروں سے انہیں اٹھاکر لے جاؤ یا ان کے گھروں پر بمباری کردو یہ کہاں کا انصاف ہے‘۔

زینب بلوچ کے بھائی دین محمد خصدار کے دیہی صحت مرکز میں ڈاکٹر تھے، ان کا کہنا ہے کہ اٹھائیس جون دو ہزار نو کو ان کے بھائی کو سادہ کپڑے پہنے ہوئے لوگ اٹھاکر لے گئے۔

’ان کی غیر موجودگی میں تمام اہل خانہ ذہنی اذیت کا شکار ہیں، ان کے بچے ہر روز ان کے بارے میں سوال کرتے ہیں مگر وہ انہیں جواب نہیں دے سکتے۔ اسی طرح ماں کے سوالات کے بھی ان کے پاس جوابات نہیں ہوتے۔‘

عبدالجلیل ریکی تیرہ فروری دو ہزار نو سے لاپتہ ہیں، ان کے والد عبدالقدیر بلوچ کبھی کوئٹہ تو کبھی اسلام آباد اور کبھی کراچی میں کیمپ لگائے بیٹھے نظر آتے ہیں۔

جلیل کی بہن ہانی ریکی کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی زہر بن چکی ہے۔ اگر کسی کا بیٹا، بھائی یا شوہر لاپتہ ہے اس خاندان پر کیا گذرتی ہے یہ درد صرف وہ محسوس کرسکتا ہے جس پر یہ بیت چکی ہو، اس تکلیف کے باوجود وہ اپنی طرف سے کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس صرف یہ ہی ایک رستہ ہے ۔

ارشاد بلوچ اور قمبر چاکر چھبیس نومبر دو ہزار دس کو تربت سے لاپتہ ہوئے ارشاد کی بہن زر خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں خفیہ اداروں کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے اور بعد میں قمبر چاکر کی انہیں لاش ملی مگر بھائی ابھی تک لاپتہ ہے۔’ کزن بھی بھائی ہوتا ہے اگر بھائی کی لاش سامنے ہو تو بہنوں پر کیا گذرتی ان جذبات اور احساسات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا‘۔

دوسری جانب انٹرنیشنل وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور بلوچ رائٹس کونسل کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، امریکی صدر بارک اوباما، صدر پاکستان، چیف جسٹس سپریم کورٹ کو ہزاروں دستخطوں کے ساتھ ایک یاداشت نامہ بھیجا گیا ہے، جس میں انہیں بلوچستان میں لوگوں کی گمشیدگیاں اور زیر حراست ہلاکتوں کی روک تھام میں کردار ادا کرنے کی گذارش کی گئی ہے۔