لاپتہ افراد، احتجاج اب اسلام آباد میں

لاپتہ افراد کے لواحقین کا کیمپ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنلاپتہ افراد کے لواحقین نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اپنا احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے سپریم کورٹ آف پاکستان اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے میں لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا نوٹس لیاجائے۔

ان لوگوں نے کہا ہے کہ اگر لاپتہ بلوچوں پر کسی جرم کا الزام ہے توانہیں منظرعام پرلاکر عدالتوں کے سامنے پییش کیاجائے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ کو جمعرات کی شام کو بند کردیاگیا ہے۔

اس سلسلے میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے صدر نصراللہ بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کے لواحقین چار اپریل سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم گزشتہ ایک سال سے پرامن طور پر لاپتہ بلوچوں کی عدم بازیابی، اغواء نما گرفتاریوں اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں لیکن ابھی تک ہمارے پیارے بازیاب نہیں ہوسکے ہیں‘۔

بقول نصراللہ بلوچ کے ’خفیہ اداروں کے ہاتھوں آئین وقانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران ایک سو اکیس لاپتہ بلوچوں کی چھلنی شدہ لاشیں اب تک مل چکی ہیں۔جس کی وجہ سے لاپتہ افراد کے لواحقین کو اپنے پیاروں کی زندگیوں کے حوالے سے شدید خدشات ہیں کہ کہیں انکےکسی رشتہ دار کی مسخ شدہ لاش برآمد نہ ہو‘۔

چھبیس ماہ سے لاپتہ نوجوان جلیل ریکی کے والد قدیر بلوچ نے کہا ’ہم گزشتہ ایک سال سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے جس کے باعث آج کوئٹہ میں ہم اپنا احتجاجی کیمپ ختم کر کے دو اپریل کو اسلام آباد روانہ ہو رہے ہیں‘۔

ان افراد نے بتایا کہ اسلام آباد میں وہ سپریم کورٹ، قومی اسمبلی وسینٹ کے سامنے بھی احتجاج کریں گے تاکہ وہ سپریم کورٹ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی توجہ بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کراسکیں۔

اس موقع پر دو سال سے لاپتہ ایک اور نوجوان ذاکرمجید کی بہن نے بتایا کہ اگرلاپتہ بلوچوں کو کسی جرم کے تحت اغواء کیاگیا ہے تو انہیں عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائِے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب سپریم کورٹ، میڈیا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لاپتہ بلوچوں کے مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔

دوسری جانب صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبرحسین درانی نے کہا ہے کہ وقافی حکومت کی جانب سے قائم کمیشن کے سامنے اب تک ایک سوبیس افراد کے کوائف جمع ہوچکے ہیں جن میں سے تریپن افراد منظرعام پر آچکے ہیں جبکہ باقی لوگوں سے مشترکہ طور پر تحقیقات ہورہی ہیں۔