دتہ خیل: چار مبینہ جاسوس ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مشتبہ طالبان نے امریکیوں کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں چار افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں تیں مقامی اور ایک افغان باشندہ بتایا جارہا ہے۔
پولیٹکل حکام کے مطابق پیر کو شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے چالیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل دتہ خیل کے علاقے منظر خیل میں ایک پہاڑی نالے سے مقامی لوگوں کو تین لاشیں جبکہ تحصیل میرعلی کے خیسورہ میں سڑک کے کنارے ایک لاش ملی ہے۔ ان لوگوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کیاگیا ہے۔
نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تین مقامی افراد اور ایک افغان باشندہ بتایا جاتا ہے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ دونوں مقامات پر لاشوں کے ساتھ خطوط بھی ملے ہیں۔ ان خط میں لکھا ہے کہ ’مقتولین امریکیوں کے لیے علاقے میں جاسوسی کا کام کرتے تھے اس وجہ سے ان کو ہلاک کیاگیا۔‘
تحریر میں لکھا ہے کہ امریکہ کے لیے جو جاسوسی کرے گا اس کا انجام یہی ہوگا۔ عینی شاہدین کے مطابق مقتولین کو کئی گولیاں ماری گئیں اور تازہ خون سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پیر کی صُبح ہی ان کو قتل کیاگیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق چاروں افراد کو کچھ عرصہ پہلے اپنے گھروں سے نامعلوم نقاب پوشوں نے اغواء کرلیا تھا۔
کچھ عرصے سے شمالی وزیرستان میں جاسوسی کے الزام کے تحت قتل کے واقعات میں کمی واقع ہوئی تھی۔لیکن اب ایک بار پھر لاشیں ملنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
اس سے پہلے اس قسم کے واقعات میں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں مبینہ طور پر حکومت کے حمایت یافتہ تین سو سے زائد عام قبائلیوں، عمائدین اور صحافیوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ شمالی وزیرستان کے تحصیل دتہ خیل میں چار دن پہلے مقامی قبائل کے ایک جرگے پر امریکی جاسوس طیاروں کے ایک <link type="page"><caption> حملے </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/03/110317_north_waziristan_drone_rh.shtml" platform="highweb"/></link>میں اُنتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد سے مُبینہ امریکی جاسوسوں کے لیے علاقے میں خطرہ بڑھ گیا ہے۔







