’فاٹا پورے ملک کی سلامتی کا ضامن‘

پاکستان کی دس بڑی سیاسی جماعتوں نے قبائلی علاقوں میں امن و امان اور ترقی کے لیے حکومت سے آئینی، سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان سیاسی جماعتوں نے قبائلی علاقوں میں امن کو پورے ملک کی سلامتی کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی اصلاحات پر عمل درآمد نہ ہونے سے قبائلی علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔
<link type="page"><caption> فاٹا کو قومی دھارے میں لانے پر اتفاق</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091020_fata_reforms.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> فاٹا:’سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/03/110309_fata_political_parties_uk.shtml" platform="highweb"/></link>
سنیچر کو یہ مطالبہ کوئٹہ میں عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، متحدہ قومی موومنٹ، جمعیت علماء اسلام (ف)، نیشنل پارٹی، پشتونخواملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ نون، مسلم لیک قاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور پی پی پی شیر پاؤ کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی کے ارکان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔
کمیٹی نے کہا کہ صدر آصف علی ذرداری نے چودہ اگست سال دو ہزار نو میں فاٹا کے لیے جن اصلاحات کا اعلان کیا تھا اس پر فوری طور عمل درآمد کیا جائے۔
پشتونخوا ملی پارٹی کے رہنماء اکرم شاہ لالا کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں لیکن بدقسمتی سے بعض وجوہات کی بناء پراس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے کیونکہ ملک میں بعض قوتیں نہیں چاہتی ہیں کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی اور جمہوری عمل شروع ہو سکے۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق پیپلز پارٹی فاٹا کے رہنماء مرزا ایم جہادی نے کہا کہ صدرمملکت نے پہلے قدم کے طور پر جن اصلاحات کا اعلان کہا تھا اس پر آج تک عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔ ان آئینی اصلاحات پر عملدرآمد نہ ہونے سے قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کے اقدار اور روایات کا احترام تمام پاکستانیوں کا فرض ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کےرہنماء ہاشم بابر کا کہنا ہے کہ سیاسی عمل سے ہی قبائلی علاقوں میں امن قاہم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ قبائلی علاقوں کے عوام کو فوری طور پر ملک کے سیاسی عمل میں شامل کیا جائے تاکہ سیاسی جماعتیں وہاں جا کر عوام سے رابطے کرسکیں۔
نیشنل پارٹی کے رہنماء جان محمد بلیدی کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات کے ذریعے ہی قبائلی علاقوں میں لوگوں کو درپیش مشکلات سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے ایف سی آر قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی اس قانون کے تحت نہ صرف لوگوں گے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے بلکہ بے گناہ لوگوں کو کئی سال تک بلاوجہ جیلوں میں بند رکھا جاتا ہے۔
ان سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے قبائلی علاقوں کے لوگ آئینی اور سیاسی حقوق سے محروم ہیں وہاں آزاد حثیت سے تو لوگ انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں مگر وہ کسی سیاسی جماعت کو انتخابات کے لیے استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔
بقول ان سیاسی رہنماؤں کے قبائلی عوام کو سیاسی، آئینی، سماجی اور اقتصادی حقوق نہ ملنے کی صورت میں وہ ملک بھر میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر مجبور ہوجائیں گے۔







