کابل میں مغل حکمران بابر کا مقبرہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کابل
افغانستان کی سرزمین اگر ایک طرف عالمی قوتوں یا ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کےلیے میدان جنگ کی حثیت رکھتی ہے تو دوسری طرف یہ مٹی زمانہ قدیم سے اپنے وقت کے طاقت ور بادشاہوں اور جنگجوؤں کےلیے گوشہ سکون بھی رہی ہے۔
سکندر اعظم سے لے کر بڑے بڑے حمکمران یا تو اس سرزمین سے گزرے ہیں یا انہوں نے اسے اپنا مستقل مسکن بنائے رکھا۔ افغانستان میں آج بھی کئی حکمرانوں اور بادشاہ دفن ہیں اور وہاں ان کے مقبرے بھی موجود ہیں۔
ان میں مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کا نام خصوصی طور پر اس لحاظ سے بھی لیا جاتا ہے کیونکہ ان کا انتقال ہندوستان کے شہر آگرہ میں ہوا تھا لیکن ان کے وصیت کے مطابق دس سال کے بعد ان کے جسد خاکی کو افغانستان لاکر ایک باغ میں دفن کیا گیا۔
ظہیر الدین بابر کا مقبرہ کابل شہر کے وسط میں ایک پہاڑی علاقے کے قریب واقع ہے۔ ’باغ بابر‘ کے نام سے موسوم یہ مقبرہ ایک وسیع و عریض باغ میں تعمیر کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جس جگہ پر مقبرہ بنایا گیا ہے یہ سارا علاقہ بابر کو حد سے زیادہ پسند تھا اور وہ جب بھی افغانستان آتے تھے تو اسی مقام پر پڑاؤ ڈال کر آرام کیا کرتے تھے۔
باغ کے اندر مقبرہ سب سے اونچائی پر ایک کونے میں تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ چھوٹا سا مقبرہ مغل شنہنشاہ جہانگیر نے اپنے پر دادا کے وفات کے پچھتر 75سال بعد تعمیر کروایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
وسیع اراضی پر مشتمل یہ باغ پہاڑ کی ایک ایسی چوٹی پر بنائی گئی ہے جہاں سے کابل شہر کا نظارہ بڑی خوبصورتی سے کیا جاسکتا ہے۔
اس باغ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور جہاں اس کے بالکل وسط میں پانی کا ایک نالہ بھی گزرتا ہے۔ مقبرے میں پرانے زمانے کا ایک بوسیدہ محل بھی واقع ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ محل افغان حکمران عبد الرحمن خان نے تقریباً ایک سو تیس سال قبل بیرونی ممالک کے سربراہان کےلیے تعمیر کروایا تھا۔ بعد میں اس محل کو ہوٹل میں تبدیل کردیا گیا تھا۔
تاہم مقبرے کی طرح یہ محل بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آتا ہے۔مقبرے کے حدود میں ایک مسجد بھی قائم ہے جو مغل شہنشاہ شاہ جہان نے بنوائی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقبرے کی عمارت کے ساتھ ایک چھوٹا سا سنٹر بھی بنایا گیا ہے جہاں مغل حکمران کی پرانے زمانے کی تصویریں رکھی گئیں ہیں۔ مقبرے کی سیر کرنے والے اکثر افراد اس سنٹر میں ضرور جاتے ہیں تاکہ مغلیہ سلطنت کے بانی کے کارنامے اور اسکی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں معلوم ہوسکے۔
باغ میں گائیڈ کی حیثیت سے کام کرنے والے ایک افغان محمد عمر سرخیل نے بتایا کے تاریخ کے کتابوں میں لکھا ہے کہ مغل حکمران کو افغان مٹی اور آب و ہوا سے اتنی زیادہ محبت تھی کہ وہ اکثر اوقات اپنے وزراء سے کہا کرتا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ مرنے کے بعد ان کی قبر پر کابل کی ٹھنڈ ی ٹھنڈی ہوا لگے تاکہ اسے سکون ملتا رہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مغل حکمران اس باغ میں فرصت کے اوقات میں شعر و شاعری اور لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے جبکہ یہاں وہ گھوڑ سواری اور اپنے بیٹوں کی تعلیم و تربیت بھی کرتے تھے۔
گائیڈ نے مزید بتایا کہ یہ باغ بابر افغانستان میں گزشتہ دو تین عشروں سے جاری لڑائیوں میں متعدد بار نشانہ بنا ہے بلکہ روس کے خلاف جنگ میں تو یہ ملکی اور غیر ملکی افواج کا ایک مستقل مورچہ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بمباریوں اور گولہ باریوں کی وجہ سے باغ کی تمام دیواریں گر گئی تھیں جس سے یہاں لوگوں کا آنا جانا تقریباً ختم ہوگیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آغا خان فاؤنڈیشن نے اب دوبارہ باغ کی ضروری مرمت کی ہے اور اسکی دیواریں بھی نئے سرے سے تعمیر کروائی گئی ہے جس سے اب سیاح بڑی تعداد میں آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جنگوں کی وجہ سے تاریخی آثار تقریباً ختم ہوکر رہ گئے ہیں لیکن اب امن کے قیام کے بعد حکومت نے اس طرف توجہ دینی شروع کی ہے جس سے یقینی طورپر افغانستان کی تاریخی اور ثقافتی ورثے کی بحالی میں مدد ملے گی۔







