ولی خان بابر ژوب میں سپردِ خاک

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر ولی خان بابر کو جنہیں جمعرات کی رات کراچی میں نامعلوم افراد نے گھات لگا کر ہلاک کر دیا تھا، انھیں آج ژوب میں سپردخاک کردیاگیا۔

ولی خان بابرکی ہلاکت کے خلاف کراچی، کوئٹہ اور ژوب میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق نوجوان صحافی اور کراچی میں جیونیوز کے رپورٹر ولی خان بابرکی میت جمعہ کی صبح بذریعہ طیارہ کوئٹہ لائی گئی۔ یہاں سے ان کی میت کو ژوب روانہ کردیاگیا جہاں شام کو کلی بابرمیں انھیں سپردخاک کردیاگیا ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

دوسری جانب ولی خان بابرکی ہلاکت کے خلاف کوئٹہ اور ژوب میں پیشتونخواملی عوامی پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی اور مختلف صحافتی تنظیموں نے مظاہرے بھی کیے۔

مظاہرین مطالبہ کیا کہ نوجوان صحافی ولی خان بابر کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

کوئٹہ میں ڈان نیوز کے نمائندئے سیدعلی شاہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث قوتوں کا سب کوعلم ہے لیکن حکومت ان پر ہاتھ ڈالنےسے گھبراتی ہے۔

ولی بابر کو گزشتہ رات کراچی میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنولی بابر کو گزشتہ رات کراچی میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا

ادھر اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق کے مشیر انصار برنی نے بھی صحافی ولی خان بابرکی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کی جان اور مال کی تحفظ کے لیے متحرک ہوجائیں۔

انصار برنی نےسندھ حکومت اور کراچی کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ولی خان بابرکی ہلاکت میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کرکے قرار واقعی سزادی جائے۔