سلمان تاثیر: پیپلز پارٹی کے نڈر کارکن

سلمان تاثیر
،تصویر کا کیپشنسلمان تاثیر حال ہی میں توہینِ رسالت کے قانون پر اپنے بیان کی وجہ سے متنازعہ بن گئے تھے

اسلام آباد میں ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والے گورنر پنجاب پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر کارکن تھے اور بھٹو خاندان کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے۔

سلمان تاثیر کو پندرہ مئی 2008 کو پنجاب کا گورنر بنایا گیا تھا۔

سلمان تاثیر نے اپنا سیاسی سفر 1960 کی دہائی میں طالب علمی کے زمانے میں شروع کیا تھا۔ انہوں نے فوجی آمر جنرل ضیاء کے ہاتھوں سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے اور پھر ان کی گرفتاری اور پھانسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ بھی لیا تھا۔

1980 میں انہوں نے اپنے مرحوم رہنما ذوالفقار علی بھٹو کی سوانح عمری لکھی۔

سنہ انیس سو اٹھاسی میں جب بے نظیر بھٹو پہلی باراقتدار میں آئیں تو سلمان تاثیر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور صوبے کی نواز شریف حکومت کی اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد جب نواز شریف نے وفاق کا اقتدار سنبھالا تو سلمان تاثیر حکومت مخالف پیپلز پارٹی کی لانگ مارچ میں پیش پیش رہے اور گرفتار ہوکر جیل گئے۔اس زمانے میں کہا گیا کہ انہیں جیل میں خاص طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

سنہ انیس سو ترانوے میں سلمان تاثیرنے پاکستان کرکٹ بورڈ میں خزانچی کے فرائض انجام دیے اور بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے اخبار مساوات کے مالی امور کے انچارج بھی رہے۔

اکاؤنٹنسی کی اعلی تعلیم سے آراستہ سیاستدان سلمان تاثیر نے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار پر بھی خصوصی توجہ دی۔ لاہور میں ان کی آڈٹ فرم اچھی ساکھ رکھتی ہے۔ متمول علاقوں میں ڈیپارٹمنٹل سٹورز کا سلسلہ ’پیس‘، ’ورلڈ کال‘ ٹیلی فون اور کیبل نیٹ ورک، ’ڈیلی ٹائمز‘ روزنامہ ’آج کل‘ اور ٹی وی چینل ’بزنس پلس‘ ایسے تجارتی و صحافتی ادارے ہیں جن کی کامیابی میں بڑا ہاتھ سلمان تاثیرکی انتظامی صلاحیتوں کا کہا جاتا ہے۔

نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد بزنس پلس وہ پہلا ٹی وی چینل ہے جس کی ٹیم کی نواز شریف سے ان کے ایک انٹرویو کے معاملے پر بدمزگی ہوئی اور ٹی وی چینل کی ٹیم نے الزام عائد کیا کہ ان کی ٹیپ چھین لی گئی تھی۔نواز شریف کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور ان الزامات کو ایک سازش قرار دیا تھا۔

اس واقعہ کے کچھ عرصے بعد جب مسلم لیگ قاف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو سلمان تاثیر وفاقی نگران کابینہ کے رکن اور ان کے چینل کے ایک میزبان پنجاب کابینہ کے نگران وزیر بنے۔

ایک میڈیا کنگ اور کامیاب کاروباری شخصیت کو طور پر اپنا مقام بنانے والے سلمان تاثیر، پیپلز پارٹی کی بدلتی ہوئی شبیہ اور کاروبار سلطنت کے انداز نو پہ صحیح طور پر پورا اترے اور جلد ہی پارٹی کے نئے سربراہ آصف زرداری کے منظور نظر بن گئے۔ سیاسی حلقوں میں انہیں جوڑ توڑ کا ماہر سمجھاجاتا تھا۔

وہ اپنی معاملہ فہمی اور موقعہ شناسی کی صلاحیتوں کی بدولت پیپلز پارٹی سے اپنی وابستگی برقرار ر کھتے ہوئے صدر پرویز مشرف کے بھی قریب ہوئے، نگران دور میں وفاقی وزیر بنے اور پھرگورنر پنجاب کے عہدے کے لیے اس طرح نامزد ہوئے کہ مسلم لیگ نون کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کی پسند ہیں یا صدر پرویز مشرف کا انتخاب۔

سلمان تاثیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں قاسم ضیاء اور میاں یوسف صلاح الدین کے عزیز اور برصغیر کے نامور انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی اہلیہ ایلس فیض کے بھانجے ہیں۔

سلمان تاثیر کے والد ڈاکٹر محمد دین تاثیر اس صدی کی دوسری اور تیسری دہائی کے ایک بڑے شاعر، ادیب اور دانشور تھے۔ فیض احمد فیض کے ہم زلف ایم ڈی تاثیر کواپنی جوانی میں علامہ اقبال جیسے عظیم شاعر کے قدموں میں بیٹھنے کا موقع ملا تھا۔ وہ خوش گو شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی نکتہ رس نقاد بھی تھے۔ وہ پہلے ہندوستانی تھے جنہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی ادب کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کی۔

سلمان تاثیر
،تصویر کا کیپشنسلمان تاثیر پیپلز پارٹی کے سینیئر کارکنان میں سے ایک تھے

حال ہی میں سلمان تاثیر اس وقت خبروں میں آئے جب انہوں نے توہینِ رسالت کے الزام میں موت کی سزا پانے والی عیسائی خاتون آسیہ سے جیل میں ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ وہ آسیہ کی جانب سے معافی نامہ لے کر صدر آصف علی زرداری کے پاس جا رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ جلد اس پر دستخط کر دیں گے۔

پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب کے ایک گاؤں اٹاں والی کی رہائشی آسیہ کو چند روز قبل ننکانہ صاحب کی مقامی عدالت نے توہین رسالت کے الزام میں موت اور ایک لاکھ روپے کی سزا سنائی تھی۔ ان کے اس اقدام پر پنجاب کی مختلف شہروں میں ان کے خلاف جلوس نکالے گئے اور مذہبی جماعتوں کے اراکین نے مظاہرے بھی کیے۔

جب اس وقت ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا صدر صاحب کی جانب سے معافی ملنے سے مذہبی تصادم کا امکان تو نہیں تو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا کہنا تھا ’نہیں ایسا نہیں ہو گا کیونکہ یہ مذہب کا نہیں انسانیت کا معاملہ ہے اور اس میں مذہب کو نہیں لانا چاہتے اور قائداعظم محمد علی جناح کے دیئے گئے اصولوں کی مطابق پاکستان کو ایک روشن خیال اور ترقی پسند ملک بنانا چاہتے ہیں۔‘

اسی طرح ستمبر 2009 میں لاہور میں ایک تقریب میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ سیالکوٹ میں مبینہ طور پر توہین رسالت میں ملوث ایک مسیحی نوجوان کی ہلاکت کے بعد یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو ختم کیا جائے تو گورنر پنجاب نے جواب دیا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دو سوپچانوے سی کا قانون (توہین رسالت کا قانون) ختم ہونا چاہیے۔