’متاثرینِ سیلاب میں نمونیا پھیل سکتا ہے‘

بچوں کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم سیو دی چلڈرن یو کے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سردی سے بچاؤ کے ناکافی انتظامات کے باعث پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ بچوں میں نمونیے کی وبا پھیلنے کا خدشہ ہے۔
تنظیم کے پاکستان میں سربراہ محمد قزلباش کے مطابق سیلاب کے فوراً بعد امدادی اداروں کی جانب سے متاثرین کو عارضی رہائش کے لیے جو ٹینٹ اور دیگر سامان دیا گیا تھا وہ سردی سے بچاؤ کے لیے کافی نہیں جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ لاکھوں بچے نمونیا سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
سیلاب زدگان کے لیے بی بی سی اردو کی خصوصی نشریات بی بی سی لائف لائن کے نمائندے مدثر حسین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد قزلباش نے کہا کہ پاکستان میں عام حالات میں ہر سال اوسطاً پچاسی ہزار بچے نمونیے کا شکار ہوتے ہیں اور اس مرتبہ سیلاب کی وجہ سے خدشہ ہے کہ سرد موسم میں نمونیے کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد بڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ جلد سے جلد متاثرہ خاندانوں اور بچوں کو امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ اس بیماری کا شکار ہونے سے بچ سکیں‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرد موسم کے لیے مخصوص قسم کی پناہ گاہیں درکار ہوتی ہیں اور چونکہ پاکستان میں خیبر پختونخواہ کے علاقے میں سردی زیادہ پڑتی ہے اس لیے وہاں خاص قسم کے خیموں کی ضرورت ہے۔
محمد قزلباش نے کہا چونکہ جب سیلاب آیا اس وقت جس قسم کا بھی امدادی سامان میسر تھا متاثرین کو فراہم کر دیا گیا اور اب جبکہ سردی کا موسم آ گیا ہے تو انہیں متاثرین کو سردی سے متعلقہ سامان کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔
اس سوال پر کہ سرد موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے متاثرین میں سامان کی تقسیم کب تک مکمل ہوگی، محمد قزلباش نے کہا کہ سردی سے متعلقہ سامان کی تقسیم کا عمل جاری ہے تاہم متاثرہ علاقہ اتنا وسیع ہے کہ اس عمل کو مکمل ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔



