توہینِ رسالت قانون، حکومت کو نوٹس

لاہور ہائی کورٹ نے توہین رسالت کے قانون میں ممکنہ تبدیلی کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے یہ حکم ایک شہری ناصر رسول کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد دیا۔
دوسری طرف سے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ توہین رسالت کے قانون میں کوئی ترمیم یا تبدیلی نہ کی جائے۔ آئین کی دفعہ ایک سو ننانوے کے تحت کی گئی اس درخواست میں وفاقی حکومت، سپیکر قومی اسمبلی ، پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شیری رحمان اور اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست پر آئندہ سماعت تیئس دسمبر کو ہوگی اور چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس خواجہ شریف کی جگہ اب کوئی جج اس پر سماعت کرے گا کیونکہ جسٹس خواجہ شریف اپنے عہدے کی آئینی مدت پوری ہونے پر آٹھ دسمبر کو ریٹائر ہوجائیں گے۔
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل عزیز احمد ملک نے عدالت کو یہ بتایا کہ توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی جارہی ہے اور اس مقصد کے لیے حکمران جماعت کی رکن قومی اسمبلی شیری رحمان نے ایک بل بھی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔
وکیل نے اسمبلی میں بل پیش کرنے کے جانے والے بارے میں عدالت کے سامنے قومی اخبارات کے تراشے بھی پیش کیے۔
درخواست گزار کے وکیل نے یہ موقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل ٹو اے کے تحت پاکستان میں قرآن اور سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا اور اگر اسمبلی ایسی کوئی قانون سازی کرتی ہے تو وہ بقول وکیل کے غیر قانونی اور غیر آئینی ہوگی ۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے منافی کوئی قانون بنائے اس لیے اسمبلی توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔ وکیل عزیر احمد ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ قومی اسمبلی کو توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کے بل پر قانون سازی سے روکا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ توہین رسالت کے قانون دو سو پچانوے سی کوئی تبدیلی اور ترمیم نہ کی جائے اور بیرونی دباؤ پر توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی اور ترمیم کے لیے جمع کرائی گئی تمام تجاویز کو مسترد کر دیا جائے۔
دریں اثناء چیف جسٹس ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف نےتوہین رسالت کے الزام میں سزا موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رحم کی اپیل پر ان کی ممکنہ رہائی کے خلاف پر سماعت حکومت کی استدعا پر ملتوی کر دی۔
کارروائی کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نسیم کشمیری نے یہ استدعا کی کہ درخواست میں اٹھائے نکات پر جواب دینے کے لیے انہیں پندرہ دنوں کی مہلت دی جائے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے یہ استدعا منظور کرتے ہوئے درخواست پر سماعت تئیس دسمبر تک ملتوی کردی اور حکومت کو آئندہ سماعت پر شق وار جواب دائر کرنے کی ہدایت کی۔
خیال رہے کہ آسیہ بی بی کی رحم کی اپیل پر ان کی ممکنہ رہائی کے خلاف مقامی وکیل نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے اور چیف جسٹس ہائی کورٹ نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے صدر پاکستان کو مسیحی خاتون کی رحم کی اپیل پر کارروائی سے تاحکم ثانی کارروائی سے روک دیا تھا۔







