یہ پہلی بار نہیں ہوا

جمعرات کی شام کراچی کے جس علاقے کو شدت پسندوں نے اپنا ہدف بنایا اس میں تقریباً ایک کلومیٹر کے دائرے میں واقع لگ بھگ تمام ہی عمارتیں یا تو اپنی سرکاری حیثیت کی بنا پر انتہائی اہم ہیں یا سفارتی و تجارتی نوعیت کے باعث حساس قرار دی جاتی ہیں۔

اس علاقے میں سندھ کے وزیراعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ، امریکی قونصل خانہ، جناح کورٹس نامی عمارت میں واقع نیم فوجی ادارے رینجرز کا صدر دفتر، میریئٹ، شیریٹن، اور پرل کانٹی نینٹل جیسے عالمی سطح کے ہوٹل، امراء اور رؤسا کے طبقے کے لیے مخصوص سمجھے جانے والے سماجی ادارے جم خانہ، سندھ کلب، کراچی کلب، اعلیٰ ترین سرکاری افسران کی عارضی رہائشگاہ قصر ناز، سابق کمشنر کراچی اور موجودہ ضلعی رابطہ افسر کا سرکاری دفتر، پاکستان انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن یا پی آئی ڈی سی کا صدر دفتر، تاریخی اہمیت کا حامل فریئر ہال، پولیس افسران اور اہلکاروں کا رہائشگاہیں شامل ہیں۔ اور ذرا ہی فاصلے پر گورنر سندھ کی سرکاری رہائشگاہ بھی ہے۔

مگر شدت پسندوں کے حملے کا بنیادی ہدف سندھ پولیس کے خصوصی شعبے یعنی کرمنل انویسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ یا سی آئی ڈی کی عمارت ہی تھی۔ حملے میں زخمی ہوکر ہسپتال پہنچنے والے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ وہ حملے کے وقت سی آئی ڈی کی عمارت پر ہی تعینات تھے اور حملہ آوروں نے دھماکہ کرنے سے پہلے فائرنگ کی، پھر دستی بم پھینکے اور اس کے بعد دھماکہ ہوا۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار جعفر رضوی کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ یہ واقعہ اس علاقے میں شدت پسندی کا پہلا واقعہ تھا۔

اس سے پہلے اسی علاقے میں مئی دو ہزار دو میں فرانسیسی بحریہ کے انجیئیرز کی بس پر حملہ کیا گیا، جس میں گیارہ فرانسیسی انجیئیرز ہلاک ہوئے۔

چودہ جون سنہ دو ہزار دو کو امریکی قونصل خانے کی عمارت کو شدت پسندوں نے اپنے حملے کا نشانہ بنایا۔ اس حملے میں بارہ افراد مارے گئے تھے۔

اٹھائیس فروری سنہ دو ہزار تین میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک بار پھر امریکی قونصل خانے کے سامنے کیے جانے والے حملے میں دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا اور پانچ زخمی ہوئے۔

دو مارچ دو ہزار چھ میریئٹ ہوٹل کے باہر گاڑی میں سوار ایک خودکش بمبار نے حملہ کیا، جس میں چار افراد مارے گئے اور تیس زخمی ہوئے۔ یہ حملہ امریکی قونصل خانے کے عقبی جانب سے کیا گیا تھا۔ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں امریکی سفارتی اہلکار ڈیوڈ فوئے بھی شامل تھے۔

بارہ نومبر سنہ انیس سو ستانوے کو اسی علاقے میں پی آئی ڈی سی کے سامنے واقع لو لین برج پر حملے میں امریکی ادارے یونین ٹیکسز سے وابستہ چار امریکی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ ان امریکی شہریوں کی گاڑی پر خودکار ہتھیاروں سے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کی جب وہ صبح ہوٹل سے نکلے تھے۔

جون دو ہزار چار میں اسی علاقے میں کراچی کور کے کمانڈر جنرل احسن سلیم حیات پر حملہ ہوا تھا جس میں ان کے محافظین سمیت گیارہ افراد مارے گئے تھے۔

اسی علاقے میں نامعلوم افراد نے پل کی تعمیر کی نگرانی کرنے والے دو ایرانی انجینیئرز بھی اسی علاقے میں مارے جاچکے ہیں۔

اور اب جمعرات کو ہونے والے حملے میں اب تک بیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔