’مالی پالیسی میں اصلاحات کی ضرورت‘

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد ترقیاتی اور تعمیرِ نو کے منصوبوں کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے مالی پالیسی میں اصلاحات لائی جائیں۔
تاہم بینک کا کہنا ہے کہ کاشت کے زیاں، مال مویشی کے نقصان، انفراسٹرکچر کی تباہی اور ملک میں محدود اقتصادی سرگرمیوں نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، مگر تعمیر نو اور آبادکاری کے منصوبوں سے جی ڈی پی پر مثبت نتائج کا امکان ہے۔
بینک کا کہنا ہے کہ کاشت کے زیاں، مال مویشی کے نقصان، انفراسٹرکچر کی تباہی اور ملک میں محدود اقتصادی سرگرمیوں نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، مگر تعمیر نو اور آبادکاری کے منصوبوں سے جی ڈی پی پر مثبت نتائج کا امکان ہے۔
اس سے قبل امریکہ بھی پاکستان کو کہہ چکا ہے سیلاب زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے پاکستان حکومت بھی وسائل پیدا کرے۔ وفاقی حکومت نے فلڈ ٹیکس کے نام سے ایک نیا ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو صوبے وصول کریں گے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سیلاب کے نقصانات اور دستیاب وسائل سیلاب زدگان کی مدد کے لیے منتقل کرنے سے پاکستان کی معشیت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اخراجات اور اولیت کا تعین کیا جائے تاکہ انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جاسکے۔
کراچی میں ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ ملکی معشیت میں بہتری کے لیے بینک نے تجویز دی ہے کہ درآمدت اور ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات میں کمی اور سبسڈیز پر غیر ترقیاتی اخراجات سے سرمایہ کاری میں واضح کمی کے خطرات نمایاں ہیں، تاہم درآمدات میں کمی معشیت کو مستحکم ڈگر پر ڈال سکتی ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ سیلاب کے متعلق اخراجات سے رواں مالی سال کے بجیٹ کے اہداف حاصل نہیں ہوسکیں گے اور مالی خسارہ چار فیصد سے بھی بڑھ جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینک کے مطابق آنے والے سیزن کے لیے کاشت میں تاخیر اور رواں سیزن میں کاشت کو ہونے والے نقصان کی وجہ سے نہ صرف خوراک اور دیگر اجناس کی کمی ہوسکتی ہے، بلکہ کاشتکاروں کی آمدنی بھی متاثر ہوگی۔
بینک نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سیلاب سے ملک میں آمدورفت کی اہم شاہراوں کے بری طرح متاثر ہونے، اشیا کی قلت اور برآمدات میں اضافے سے عام استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ایشیائی بینک کا خیال ہے کہ پاکستان کی معشیت کی تصویر تب واضح ہوگی جب نومبر کے آخر میں ڈونرز کانفرنس کا انعقاد ہوگا۔ یاد رہے کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصان کے بعد تعمیر نو میں مدد کے لیے یہ کانفرنس منعقد کی جارہی ہے۔







