پاکستان کے گیس کے ذخائر میں کمی

پاکستان میں گیس کے ذخائر میں بتدریج کمی ہو رہی ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں گیس کے ذخائر میں بتدریج کمی ہو رہی ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی کو بتایاگیا ہے کہ ملک میں قدرتی گیس کے ذخائر آئندہ بیس برس میں ختم ہوجائیں گے۔

پیٹرولیم کے وفاقی وزیر سید نوید قمر نے ایک تحریری جواب میں بتایا ہے پاکستان میں گیس کی یومیہ پیداور چار ارب کیوبک فٹ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران سے گیس خریدنے کے لیے تمام تر دستاویزی کارروائی تیرہ جون سنہ دو ہزار دس کو مکمل کی گئی ہے اور موجودہ منصوبے کے تحت ایران سے گیس سنہ دو ہزار چودہ تک پاکستان پہنچے گی۔

ایران کے ساتھ معاہدے کے مطابق ایران پاکستان کو سات سو پچاس ملین کیوبک فٹ گیس یومیہ فراہم کرے گا اور باہمی رضامندی سے یہ فراہمی ایک ارب کیوبک فٹ یومیہ بھی کی جا سکتی ہے۔

سید نوید قمر نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ایک سو تین گیس فیلڈز میں پانچ سو چھتیس کنویں ہیں۔ جس میں سے اناسی گیس فیلڈز صوبہ سندھ، پندرہ پنجاب، پانچ خیبر پختونخوا اور چار صوبہ بلوچستان میں ہیں۔

پیٹرولیم کے وزیر نے بتایا کہ تاحال سمندر میں تیل اور گیس تلاش کرنے کے لیے پانچ کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں لیکن کسی کو تیل یا گیس کے ذخائر نہیں مل پائے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ماحولیات کے وزیر حمیداللہ آفریدی نے بتایا ہے کہ پاکستان میں چمڑے کے کئی کارخانے اور کیمیکل کی دیگر ایسی صعنتیں ہیں جن کے پاس فضلہ ٹھکانے لگانے کا انتظام نہیں ہے اور اس وجہ سے زیر زمین پانی آلودہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے شیر محمد بلوچ کے سوال کے جواب میں بتایا ہے کہ کراچی میں کلفٹن سے سٹیل ملز تک ساحلی پٹی آلودہ ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق اس ساحلی پٹی میں روزانہ پچپن کروڑ گیلن صنعتی اور میونسپل کا فضلہ پھینکا جاتا ہے۔