سوات میں گوتم بدھ کا مجسمہ

پہاڑی مجسمہ
،تصویر کا کیپشنتیرہ فٹ لمبا اور نو فٹ چوڑا یہ مجسمہ پتھر کے عین وسط میں بنا ہوا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جہان آباد، سوات

پاکستان کی وادی سوات میں تقریباً تین سال قبل مقامی طالبان کی طرف سے دو مرتبہ بارودی مواد سے نشانہ بنایا جانے والا مہاتما بدھ کا بائیس سو سال پرانا مجسمہ علاقے میں امن قائم ہونے کے باوجود بدستور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ حکومت یا کسی اور ادارے کی طرف سے تاحال اس قدیم مجسمے کی مرمت کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

صدر مقام مینگورہ کے مشرق میں تقریباً پندرہ بیس کلومیٹر دور منگلوار کے علاقے جہان آباد میں واقع یہ قدیمی گوتم بدھ کا مجسمہ ایک پہاڑی مقام پر قائم ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کےلیے ایک دو کلومیٹر کے کٹھن پہاڑی راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔

’طالبان نے ڈرِل مشین سے بدھا کے چہرے پر سوراخ کیے اور بارود بھر کر شدید دھماکے کیے‘
،تصویر کا کیپشن’طالبان نے ڈرِل مشین سے بدھا کے چہرے پر سوراخ کیے اور بارود بھر کر شدید دھماکے کیے‘

مجسمہ کئی فٹ لمبے اور اونچے جسامت کے دیوہیکل پھتر کے اندر تراشا گیا ہے جہاں نزدیک کوئی گھر یا آبادی نہیں ہے۔ تیرہ فٹ لمبا اور نو فٹ چوڑا یہ مجسمہ پتھر کے عین وسط میں کچھ اس انداز سے بنا ہوا ہے کہ اس کو بغیر رسی یا ایک لمبے سیڑھی کے مدد کے بغیر چھویا نہیں جاسکتا۔

ستمبر دو ہزار سات میں مقامی طالبان نے دو بار اس مجسمے کو باردوی مواد سے نشانہ بنانے کی کوشش کی جس سے بدھا کے سر اور چہرے کو نقصان پہنچا ہے۔ پہلے حملے میں اسے جزوی طورپر نقصان پہنچا تھا جبکہ دوسرا حملہ اتنا شدید تھا کہ اس سے بدھا کا چہرہ ناقابل شناخت ہوچکا ہے۔ تاہم بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے طالبان اس کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے۔

اس مجسمے سے تھوڑی دور ایک بڑا سا مکان واقع ہے جہاں دو تین خاندان اکھٹے رہتے ہیں۔ اس گھر سے تعلق رکھنے والے ایک عینی شاہد اختر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ مجسمے کو نشانہ بنانے سے پہلے طالبان نے ان کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً دو تین سو کے قریب مسلح نقاب پوش اس سارے علاقے میں موجود تھے جن کے پاس بندوقیں اور بھاری ہتھیار تھے۔

ان کے بقول ’ آدھی رات کے وقت پہلے مسلح جنگجوؤں نے جنریٹر اور لائٹس کی مدد سے ڈرِل مشین سے بدھا کے چہرے پر سوراخ کیے اور پھر ان میں بارود بھر کر شدید دھماکے کیے۔‘

انہوں نے کہا کہ طالبان نے بدھا کے چہرے اور سر کو نشانہ بنانے کےلیے سیڑیوں اور رسیوں کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے پھتر کے بالائی حصے سے رسیاں لٹکا کر بدھ کے چہرے تک پہنچنے کی کوشش کی۔

اختر علی
،تصویر کا کیپشناختر علی

سوات دنیا میں گندہارا تہذیب کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں لنڈاکئی سے لے کر مالم جبہ کے علاقوں تک مہاتما بدھ کے درجنوں مجسمے اور دیگر قیمتی نوادرات موجود ہیں۔ ان نوادرات کو دیکھنے کےلیے ہر سال دنیا بھر سے سیاح سوات آیا کرتے تھے۔

تاہم سوات میں تین سال تک عسکریت پسندی اور حکومتی رٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان میں اکثر نوادارات غیر محفوظ اور چند ٹوٹ پھوٹ کا بھی شکار ہوگئے ہیں۔

سوات میں آثارقدیمہ اور گندھارا تہذیب کے ایک ماہر پروفسیر پرویش شاہین نے بتایا کہ بدھ مت مذہب کے ماننے والوں کے لیے بدھا کا یہ مجسمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے بقول ’ بدھ مت کے مذہبی کتابوں کے مطابق بدھا اس پہاڑی علاقے میں عبادت کرنے آیا کرتے تھے اور جب وہ یہاں سے جانے لگے تو ان کا یہ مجسمہ خودبخود اس پھتر کے اندر نکل آیا۔‘

پویش شاہین
،تصویر کا کیپشنسوات میں آثارقدیمہ اور گندہارا تہذیب کے ماہر پروفسیر پرویش شاہین

انہوں نے کہا کہ بدھا کا یہ مجسمہ جنوبی ایشیا میں افغانستان کے بعد دوسرا بڑا مجسمہ سمجھا جاتا ہے اور اسے قدرتی بدھا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

پرویش شاہین نے کہا کہ آثارقدیمہ کے انمول نوادرات سوات میں حالات بہتر ہونے کے باوجود بدستور غیر محفوظ ہیں اور اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے ان کی حفاظت کا کوئی معقول انتظام نہیں کیا جارہا ۔

’اگر حکومت ان کی حفاظت نہیں کرسکتی تو بہتر یہ ہے کہ کسی اور ملک کے حوالے کردے کیونکہ اس سے کم سے کم ہماری تاریخ تو محفوظ رہی گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ نشانہ بنائےجانے والے بدھا کی بحالی اور مرمت کے حوالے سے جاپان یا کسی اور ملک سے فوری طور پر بات ہونی چاہیے تاکہ ان کی ماہرین کی نگرانی میں یہ کام ہوسکے۔

پرویش شاہین سوات کے علاقے منگلوار کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے پشتو، اردو اور انگریزی زبانوں میں چالیس سے زائد کتابیں لکھی ہیں۔

محمد ریاض
،تصویر کا کیپشنجہان آباد کے رہائشی محمد ریاض

جہان آباد کے ایک نوجوان محمد ریاض نے بتایا کہ سوات میں جب حالات اچھے تھے تو بدھا کے اس مجسمے کو دیکھنے کےلیے روزانہ بڑی تعداد میں لوگ آیا کرتے تھے جن میں غیر ملکی اور پاکستانی دونوں سیاح شامل ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے آنے سے انکی دیہاڑی بھی لگی رہتی تھی کیونکہ مہمانوں کو پہاڑی علاقے میں لے جانے پر انھیں پیسے ملتے تھے اور اس طرح دیگر لوگوں کا روزگار بھی اس بدھا سے وابستہ تھا ، کچھ لوگ مہمانوں کی گاڑیوں کی حفاظت پر مامور تھے تو ان کی بھی کچھ آمدنی ہو جاتی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے تین سالوں سے وہ سب افراد بے روزگاری کا شکار ہیں اور زیادہ تر تو یہاں سے چلے گئے ہیں اور اب وہ دوسرے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حالات اس طرح اچھے رہتے ہیں تو سوات میں ایک بار پھر خوشحالی آسکتی ہے اور ان کے دن دوبارہ تبدیل ہوسکتے ہیں۔