مزاروں کی سکیورٹی پر تشویش

کراچی کے ساحل سمندر پر عبداللہ غازی کا مزار
،تصویر کا کیپشنکراچی کے ساحل سمندر پر عبداللہ غازی کا مزار

لاہور میں داتا گنج بخش کے مزار میں دو خودکش بم دھماکوں کے بعد سندھ میں مزاروں کی سکیورٹی کے انتظامات بھی زیر بحث آگئے ہیں۔ سندھ میں قلندر لال شہباز، شاہ عبدالطیف بھٹائی اور عبداللہ شاہ کے مزاروں پر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان مزارات کی سکیورٹی اب نجی اداروں کے حوالے کی جارہی ہے۔

کراچی میں ساحل سمندر کے قریب واقع بزرگ عبداللہ شاہ اصحابی کے مزار میں زائرین کی آمد جاری ہے، داخلی راستے پر سکینر لگے ہوئے ہیں جن سے گزر کر لوگ آگے جا رہے ہیں جہاں ایک نجی کمپنی کاگارڈ ان کی جسمانی تلاشی لیتا ہے۔ تاہم یہ صورتحال صرف مرکزی سڑک کی ہے جبکہ باقی راستوں پر کوئی بھی روک ٹوک نہیں۔

زائرین کا کہنا تھا کہ کوئی خاص انتظام نہیں معمولی سکیورٹی ہے جو کسی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے موثر نہیں۔

عبداللہ شاہ اصحابی کی مزار کو گزشتہ سال بھی سکیورٹی خدشات کی وجہ سے چند روز کے لیے بند کردیا گیا تھا۔ عام لوگوں کا خیال تھا کہ جمعرات اور جمعہ کو رش رہتا ہے مگر آج معمول سے لوگ کم ہیں۔

زائرین میں کچھ سمندر پر سیر کی غرض سے آئے تھے اور یہاں بھی سلام کرنے پہنچ گئے کچھ منتیں مانگنے والے تھے تو کچھ ہر ہفتے دعا کے لیے آنے والے، مگر سب کا ہی موقف تھا کہ دہشت گردی کے واقعات کے بعدوہ یہاں آنے میں خوف محسوس کرتے ہیں۔

سندھ میں روزانہ اور خاص طور جمعرات اور چھٹیوں کے روز سہون میں قلندر لال شہباز اور بھٹ شاہ میں سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کی مزار پر لوگوں کا ہجوم رہتا ہے، ان مزاراروں کی سکیورٹی کے کوئی خاص انتظام نہیں یہ مزار چاروں طرف سے کھلے ہیں۔

درگاہ شاھ عبدالطیف بھٹائی کے گدی نشین نثار حسین شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وزیراعلیٰ، گورنر یا صوبائی وزیر آتے ہیں تو سکیورٹی کے سخت انتظامات نظر آتے ہیں مگر ان کے جاتے ہی یہ انتظام ختم ہوجاتے ہیں۔

نثار شاہ کے مطابق انہوں نے سندھ حکومت سے گزارش کی ہے کہ انہیں موجود حالات کے پیش نظر رضاکار مقرر کرنے کی اجازت دی جائے جو کوئی تنخواہ نہیں لیں گے صرف سکیورٹی کا انتظام سنھالیں گے مگر انہیں اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

سندھ میں بڑے مزاروں سمیت اٹھہتر مزار سندھ کے محکمہ اوقاف کے زیر انتظام ہیں۔ صوبائی وزیر اوقاف عبدالحسیب کا کہنا تھا کہ عبداللہ شاہ اصحابی کے مزار پر سکینر لگا دیئے گئے ہیں اور نجی کپمنی کے گارڈ تعینات ہیں، قلندر لال شہباز کی مزار پر آنے والے ہفتوں میں سکینر لگ جائیں گے جس کے بعد شاہ بھٹائی کی مزار پر لگائے جائیں گے، جہاں زائرین کی ایک بڑی تعداد آتی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ میں صوفی بزرگوں کے مزار مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں کے لیے بھی قابل احترام ہیں اور زائرین میں غیرمسلموں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔ محکمہ اوقاف کو ان مزاروں سے ہر سال ایک بڑی رقم ملتی ہے ، جن کا استعمال نظر نہیں آتا۔