بگٹی مقدمہ: سپریم کورٹ از خود نوٹس لے

فائل فوٹو، نواب اکبر بگٹی
،تصویر کا کیپشنجمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب اکبر بُگٹی کو فوجی آپریشن کے دوران قتل کیا گیا تھا

جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب طلال بُگٹی کے جانب سے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بُگٹی کے قتل میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے سپریم کورٹ میں ایک ازخود نوٹس کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

پیر کو سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر گُزشتہ برس تیرہ اکتوبر کو نواب اکبر بُگٹی کے قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود اس ایف آئی آر میں نامزد کیے گئے ملزمان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ابھی تک گرفتار نہیں کیا۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس مقدمے میں نامزد دو ملزمان سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور سابق وزیر اعظم شوکت عزیز بیرون ملک ہیں جنہیں انٹرپول کے ذریعے واپس لایا جاسکتا ہے لیکن چارملزمان ملک میں موجود ہیں جنہیں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں۔

ان چارملزمان میں صوبہ خیبر پختون خواہ کے گورنر اویس احمد غنی، سابق وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی شیرپاؤ گروپ کے صدر آفتاب احمد خان شیرپاؤ، سابق وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف اور سابق صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی شامل ہیں۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیکر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرے کہ اس مقدمے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق اس پر کارروائی کی جائے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت صدر اور گورنر کو استثنیٰ حاصل ہے اور جب تک وہ اپنے عہدوں پر فائض ہیں اُن کے خلاف ملک میں کسی عدالت میں مقدمے کی سماعت نہیں ہوسکتی۔

واضح رہے کہ جس وقت جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب اکبر بُگٹی کو فوجی آپریشن کے دوران قتل کیا گیا اُس وقت اویس احمد غنی صوبہ بلوچستان کے گورنر تھے۔

جمہوری وطن پارٹی کے صدر اور نواب اکبر بُگٹی کے بیٹے طلال بُگٹی نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اکبر بُگٹی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں عدلیہ آزاد ہے اور اُنہیں اس سے انصاف کی توقع ہے۔