دو عہدے: عدالت نے مواد طلب کر لیا
لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی فل بنچ نے وہ تمام مواد مانگ لیا ہے جس سے یہ بات ثابت ہو کہ ایوان صدر اب وفاق کی علامت نہیں رہا بلکہ سیاسی جماعت کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔

فل بنچ نے یہ ہدایات صدر آصف علی زرداری کے بیک وقت دو عہدے رکھنے کے خلاف ایک ہی نوعیت کی مختلف درخواستوں پر سماعت کے دوران دیں۔
فل بنچ نے درخواست گزار وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اپنے دلائل کے حق میں اخباری تراشوں سمیت وہ تمام ریکارڈ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کریں جس سے یہ ثابت ہو کہ ایوان صدر میں سیاسی جماعت کی سرگرمیاں ہورہی ہے۔
درخواست پر مزید کارروائی اکیس جون کو ہوگی۔
صدر آصف زرداری کے ایک ہی وقت میں دو عہدے رکھنے کے خلاف یہ درخواستیں دو مقامی وکلاء اے کے ڈوگر اور آصف محمود خان نے دائر کی ہیں۔ ان درخواستوں کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کی پانچ رکنی بنچ کر رہی ہے۔ اس بنچ کی سربراہی جسٹس اعجاز احمد چودھری کررہے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں جسٹس افتخار حسین، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اقبال حمید الرحمان اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ درخواست گزار وکیل اے کے ڈوگر نے دوسرے روز بھی اپنے دلائل جاری رکھے تاہم بنچ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر اپنے دلائل مکمل کرلیں۔
درخواست گزار وکیل اے کے ڈوگر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری اس وقت ایک سیاسی جماعت یعنی پیپلز پارٹی کے سربراہ ہیں اور ملک کے صدر مملکت بھی ہیں اور بقول وکیل کے صدر مملکت کسی سیاسی جماعت کا عہدہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔
ان کے بقول آئین کے تحت صدر مملکت کو سیاست سے دور رہنا چاہیے کیونکہ صدر کا منصب وفاق کی علامت ہوتا ہے اور آئین کے آرٹیکل اکتالیس الف کے تحت صدر مملکت کسی سیاسی جماعت کا عہدہ نہیں رکھ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد کسی سیاسی جماعت کی رکنیت بھی نہیں رکھی جاسکتی۔
اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کے بقول صدر آصف زرداری ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کی وجہ سے سیاست میں بھی حصہ لے رہے ہیں حالانکہ وہ اپنے منصب کی وجہ سے سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے فل بنچ کو بتایا کہ صدر آصف زرداری ایوان صدر میں اپنی سیاسی جماعت یعنی پیپلز پارٹی کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں جو آئین کی خلاف ورزی ہی نہیں ہے بلکہ اختیارات سے تجاوز بھی ہے۔
خیال رہے کہ صدر آصف علی زرداری کے وکیل اور سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود نے اپنے تحریری جواب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے تحت صدر پاکستان پر بیک وقت دو عہدے رکھنے پر کوئی قدغن نہیں ہے۔
آصف زرداری کے دو عہدے رکھنے کے خلاف درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ صدر آصف علی زرداری کو ہدایت کی جائے کہ وہ صدر مملکت کے منصب یا اپنی جماعت کے عہدے میں کسی ایک عہدے کو چھوڑ دیں کیونکہ وہ بیک وقت دو عہدے نہیں رکھ سکتے۔







