ایل او سی فائرنگ، فوجی ہلاک
پاکستانی فوج نے الزام لگایا ہے کہ لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔

اتوار کو پاکستان کی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بھارتی فوج نے اتوار کی صبح فائر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی ضلع راولاکوٹ میں بٹل سیکٹر میں ان کی چوکیوں پر بغیر کسی اشتعال کے فائرنگ شروع کر دی۔‘
فوج کے بیان کے مطابق ’ پاکستان کی فوج جوابی کارروائی کر رہی ہے اور دونوں اطراف سے وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔‘
لیکن بیان میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ فائرنگ میں کس قسم کے ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد سے نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ بیان میں مزید کہا گیا ہے’ بلا اشتعال فائرنگ پر بھارتی حکام سے احتجاج کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر فلیگ میٹنگ بلائی جائے۔‘
رواں سال مارچ کے شروع میں بھی اسی علاقے میں ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو بچے زخمی ہوگئے تھے۔
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سن دو ہزار تین میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جواب تک قائم ہے۔
لیکن اس دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں تاہم فائرنگ کا تبادلہ کم و بیش دونوں ملکوں کی فوجی چوکیوں تک ہی محدود رہا۔
البتہ ان ساڑھے چھ سالوں کے دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک عام شہری ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوچکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہندوستان اور پاکستان ایک دوسری پر فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے اور فائرنگ شروع کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان فائر بندی کے معاہدے سے پہلے لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ معمول کی بات تھی۔
اس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سینکڑوں عام شہری ہلاک و زخمی یا معذور ہوئے اور ان کی جائیدادوں کو زبردست نقصان پہنچا تھا۔
ہندوستان اکثر پاکستان پر عسکریت پسندوں کو تربیت دینے، اسلحہ فراہم کرنے اور ان کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہونے میں مدد دینے کے لیے فائرنگ کرنے کا الزام لگاتا رہا لیکن پاکستان اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا موقف یہ رہا ہے وہ کشمیریوں کی صرف اخلاقی، سفارتی اور سیاسی مدد کرتا ہے۔







