ایل او سی فائرنگ: دو بچے زخمی
- مصنف, ذوالفقار علی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول پر پیر کی شام کو ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے نتیجے میں حکام کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں دو بچے زخمی ہوگئے ہیں۔

فائرنگ کے تبادلے کا یہ واقعہ پچیس فروری کو دلی میں ہندوستان اور پاکستان کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے فوراً بعد پیش آیا جس میں دونوں ملکوں نے رابطہ برقرار رکھنے اور مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
یاد رے کہ نومبر سن دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات معطل کردیئے تھے۔
جنوبی ضلع راولاکوٹ کے سب ڈویژن ہجیرہ کے اسسٹنٹ کمشنر مرزا ارشد محمود جرال نے بی بی سی کو رات گئے بتایا کہ ’پیر کو مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے لائن آف کنڑول کے دوسری جانب سے بھارتی فوج نے بٹل علاقے میں بغیر کسی اشتعال کے گولہ باری شروع کی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ’یہ گولہ باری وقفے وقفے سے دو گھنٹے تک جاری رہی اور بھارتی فوج نے مارٹر اور مشین گنوں کا استعمال کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ مارٹر کا ایک گولہ ایک گھر کے قریب گرا جس کے نتیجے میں ایک تیرہ سال بچہ اور اس کی تین سالہ بھتیجی زخمی ہوگئے اور ان کے گھر کو نقصان پہنچا۔
دونوں زخمیوں کو مقامی ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج نے بھی جواب میں فائرنگ کی۔
اس سے پہلے رواں سال میں اسی علاقے میں دونوں ملکوں کے فوجوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے کم از کم تین واقعات پیش آچکے ہیں جن میں دونوں طرف سے ایک ایک فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سن دو ہزار تین میں لائن آف کنڑول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا اور یہ معاہدہ اب تک قائم ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اس دوران اب تک لائن آف کنڑول پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں اور فائرنگ کا تبادلہ کم و بیش دونوں ملکوں کی فوجوں کی چوکیوں تک ہی محدود رہا ۔
البتہ ان سوا چھ سالوں کے دوران اب تک لائن آف کنڑول پر بھارتی فوج کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک عام شہری ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوچکے ہیں۔
دونوں ممالک ایک دوسری پر فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے اور فائرنگ شروع کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
ہندوستان اکثر پاکستان پر عسکریت پسندوں کو تربیت دینے، اسلحہ فراہم کرنے اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہونے میں مدد دینے کے لئے فائرنگ کرنے کا الزام لگاتا رہا لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس کی تردید کی ہے اور اس کا موقف یہ رہا ہے وہ کشمیریوں کی صرف اخلاقی، سفارتی اور سیاسی مدد کرتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں بھارتی حکام تواتر سے یہ بیان دے رہے ہیں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کی دراندازی میں اضافہ ہوا ہے۔







