بریت رد کیے جانے کے خلاف لکھوی کی اپیل

ذکی الرحمان لکھوی
،تصویر کا کیپشنذکی الرحمان لکھوی پر الزام ہے کہ وہ کالعدم لشکرِ طیبہ کے آپریشنل چیف اور مبینہ منصوبہ ساز ہیں
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

ممبئی حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمان لکھوی نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ میں ایک اپیل دائر کی ہے۔اس اپیل میں انسداد دہشت گردی کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت عدالت نے ان کی بریت کی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

ممبئی حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمان لکھوی کے وکیل خواجہ سلطان نے لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف نہ تو کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی ان کے قبضے سے ایسا کوئی مواد برآمد ہوا جس کی بنیاد پر انہیں ممبئی حملوں کے مقدمے میں سزا دی جا سکے۔ ذکی الرحمان لکھوی کو ممبئی حملوں کے بعد پاکستان میں حراست میں لے لیا گیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ کالعدم لشکر طیبہ کے آپریشنل چیف اور ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز ہیں۔

ذکی الرحمان لکھوی کے وکیل خواجہ سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت میں ان کی مرکزی دلیل یہ تھی کہ بھارت نے پاکستان سے امن عمل بحال کرنے کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ ممبئی حملوں کےالزام میں ان افراد کو سزا دی جائے۔ وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ صرف اسی وجہ سے کوئی ثبوت اور گواہ نہ ہونے کے باوجود حکومت پاکستان ان کے موکل کے خلاف مقدمہ چلائے جا رہی ہے۔ ایسا ان کےبقول صرف انڈیا کے دباؤ پر ہو رہا ہے۔

وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف واحد شہادت ممبئی حملوں کے ملزم اجمل قصاب کا انڈین پولیس کی زیرحراست ایک اعترافی بیان ہے جس کی ان کے بقول پاکستانی قانون میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو ہفتے پہلے بھی ذکی الرحمان لکھوی کی بریت کی ایک درخواست مسترد کر دی تھی۔

ذکی الرحمان لکھوی نے اس فیصلے کے خلاف اپنی اپیل میں کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت ان کی یہ دلیل سمجھنے میں ناکام رہی کہ ان کے خلاف کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو چھبیس جنوری کے لیے نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔

ذکی الرحمان لکھوی نے اپنا مقدمہ راولپنڈی سے لاہور منتقل کرانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کر رکھی ہے۔جمعرات کو اس دوسری درخواست کی سماعت متوقع ہے۔