سوات: لوگ بلا خوف میوزک سینٹرز جاتے ہیں

طالبان کے دور میں سی ڈیز کی دوکانیں کو بند کروا دیا گیاتھا
،تصویر کا کیپشنطالبان کے دور میں سی ڈیز کی دوکانیں کو بند کروا دیا گیاتھا
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان کے حملوں اور خوف کی وجہ سے تقریباً دو سال تک بند رہنے والی سی ڈیز، میوزک سینٹرز اور فلمیں فروخت کرنے والی دوکانیں دوبارہ کھل گئی ہیں۔

سوات کے صدر مقام مینگورہ سمیت مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کے بعد پہلی دفعہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے اہلکاروں نے صحافیوں کو سوات کے دور افتادہ علاقوں کا دورہ کروایا۔اس موقع پر بہت کچھ بدلہ ہوا تھا۔پورے علاقے میں نہ طالبان ہیں اور نہ لوگوں کے دلوں میں طالبان کے واپس آنے کا خوف ہے۔

لوگوں کے دلوں میں طالبان کا خوف نہ ہونے کا بڑا ثبوت یہ تھا کہ اس سفر میں مختلف بازاروں میں دوسرے کاروبار کے ساتھ ساتھ سی ڈیز، میوزک اور فلمیں فروخت کرنے والے دوکانیں بھی کھلی نظر آئیں اور لوگ ان کی خرید و فروخت کے لیے دوکانوں کے سامنے کھڑے تھے۔مینگورہ سے لے کرخوزہ خیلہ، مدین، بحرین اور کالام تک تمام بازاروں میں سی ڈیز کا کاروبار بحال نظر آیا۔

مدین میں سی ڈیز فروخت کرنے والے دوکاندار محمد سعید نے نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں ایک لمبے عرصے تک بند رہنے والے سی ڈیز، فلموں، وڈیو گیمز کی دوکانیں اور نیٹ کیفے تقریباً ایک ماہ ہوا کہ دوبارہ کھل گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مارکیٹ میں تقریباً ایک درجن سے زائد دوکانیں کھل گئیں ہیں جہاں فلمیں، پشتو میوزک اور ڈرامے فروخت کیے جا رہے ہیں۔

مارکیٹ میں تقریباً ایک درجن سے زائد دوکانیں کھل گئیں ہیں جہاں فلمیں، پشتو میوزک اور ڈرامے فروخت کیے جا رہے ہیں: محمد سعید
،تصویر کا کیپشنمارکیٹ میں تقریباً ایک درجن سے زائد دوکانیں کھل گئیں ہیں جہاں فلمیں، پشتو میوزک اور ڈرامے فروخت کیے جا رہے ہیں: محمد سعید

ان کے مطابق شہر میں پہلے جیسا خوف نہیں رہا اس لیے سی ڈیز اور میوزک کی دوکانیں کھل گئے ہیں تاہم اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا خود تیس ہزار سے زیادہ نقصان ہوا ۔

ایک دوسرے دوکاندار بلال خان نے کہا کہ وہ بہت خوش ہے کہ ان کا کاروبار دوبارہ بحال ہوگیا ہے ان کے مطابق صرف یہ نہیں کہ سی ڈیز کا کاروبار چل پڑا ہے بلکہ بازاروں کی رونقیں بحال ہوگئی ہے اور وہ تمام کاوربار بحال ہو گئے ہیں جو طالبان کے دور میں زبردستی سے بند کروائے گئے تھے۔

مینگورہ، مدین، بحرین اور کالام میں سی ڈیز اور میوزک کے کئی سو دوکانیں قائم تھیں۔ ان میں کئی درجن دوکانیں یا تو حملوں میں تباہ ہو گئیں یا طالبان کے خوف کے باعث بند کر دی گئیں جب کہ اس کاروبار سے وابستہ زیادہ تر لوگوں نے یہ کام ترک کرکے دوسرے کام شروع کر دیے تھے۔

اس کے علاوہ طالبان نے موسیقی کے پیشہ سے وابستہ سوات کے کئی گلوکاروں اور طوائفوں پر بھی حملے کیے جس کے نتیجے میں تمام فنکار وادی چھوڑ کر دوسرے شہروں کو کوچ کر گئے تھے لیکن اب مقامی لوگوں کے مطابق ان پیشوں سے وابستہ لوگ واپس آ رہے ہیں۔

سوات میں دوہزار سات میں طالبان کے منظر عام پر آنے کے بعد ضلع بھر میں سی ڈیز اور انڈین فلمیں فروخت کرنے والی دوکانوں پر حملے شروع ہوئے تھے۔اب آپریشن راہ نجات کے بعد طالبان کا خاتمہ ہوگیا ہے اور معمول کی زندگی واپس لوٹ آئی ہے۔لیکن ایک بات کابل ذکر ہے کہ یہ سب بدلہ ہوا ماحول بھاری تعداد میں فوجی اہلکاروں کی علاقے میں موجودگی میں ہے۔