ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان

لاہور ہائی کورٹ
،تصویر کا کیپشنلاہور ہائی کورٹ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیا اور ذیلی عدالت کو کارروائی کی ہدایت کی
    • مصنف, عبادالحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کی ایک عدالت نے شادی سے انکار پر لڑکی کے کان اور ناک کاٹنے والے دو ملزموں کے ناک اور کان کاٹنے کا حکم دیا ہے۔

یہ حکم لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج خالد نوید ڈار نے ان دو بھائیوں کے خلاف مقدمے پر سنایا جنہوں نے اپنی ایک رشتہ دار خاتون فضیلت بی بی کے ناک اور کان کاٹ دیے تھے۔ عدالت نے ان دو بھائیوں کو عمر قید اور جرمانے کی سزائیں بھی سنائی ہیں۔

سرکاری وکیل احتشام قادر کا کہنا ہے کہ عدالت نے دونوں ملزموں کو اسلام کے اس اصول کے تحت سزا دی ہے جس کے تحت آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت اور بقول ان کے پاکستان میں پہلی مرتبہ کسی عدالت نے اس قسم کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ اگر کان اور ناک کاٹنے کے سزا پر عمل درآمد نہ ہوسکے تو اس صورت میں دونوں ملزموں کو دس، دس سال قید کاٹنا ہوگی۔

عدالت نے دونوں ملزموں کوعمر قید کے علاوہ اقدام قتل کےالزام دس سال قید جب کہ تین، تین لاکھ جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے اور حکم دیا کہ وہ لڑکی کو سات، سات لاکھ معاوضہ ادا کریں۔

عدالت نے یہ حکم دیا کہ ملزموں کو قید کی جو سزا سنائی گئی ہے اس پر ایک ساتھ عمل نہیں ہوگا بلکہ ایک سزا مکمل ہونے کے بعد دوسری سزا پر عمل کیا جائے گا۔

شیر محمد اور امانت علی پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے اس سال اٹھائیس ستمبر کو بائیس سالہ فیضلیت کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں ایک بھٹہ پر کام کرنے کے بعد واپس اپنے گھر جارہی تھی۔

سرکاری وکیل کے مطابق شیر محمد اور امانت علی نے اپنے دیگر تین ساتھیوں کے ساتھ ملکر لڑکی کا ناک اور کان کاٹ دیے جس کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اس واقعہ کے بارے اخباری خبر پر از خود نوٹس لیا تھا اور متعلقہ ٹرائل عدالت کو اس مقدمے جلد از جلد فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔

استغاثہ کے مطابق شیر محمد فیضلت بی بی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن لڑکی والد کی طرف سے انکار پر ملزموں نے لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے ناک اور کان کاٹ دیے۔ اس مقدمے کے تین ملزم محمد علی، آصف شاہ اور علی تاحال مفرور ہیں۔

سرکاری وکیل احتشام قادر کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مقدمہ پر ایک ماہ میں کارروائی مکمل کی اور ملزموں کو سزا سنائی ہے۔