زرداری کے دو عہدوں کے خلاف درخواست

درخواست گزار نے بے نظیر بھٹو کی تصاویر سرکاری تقریبات کے دوران آویزاں کرنے پر بھی اعتراٰض کیا ہے
،تصویر کا کیپشندرخواست گزار نے بے نظیر بھٹو کی تصاویر سرکاری تقریبات کے دوران آویزاں کرنے پر بھی اعتراٰض کیا ہے
    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے بیک دو عہدے رکھنے کے خلاف درخواست پر سماعت سے معذرت کرلی ہے اور یہ درخواست چیف جسٹس کو اس سفارش کے ساتھ بھجوادی ہے کہ اس کو سماعت کے لیے کسی دوسرے جج کے روبرو پیش کیا جائے ۔

یہ درخواست لاہور کے ایک وکیل آصف محمود خان نے دائر کی ہے جس میں آصف علی زرداری کی طرف سے صدر پاکستان ہونے کے باوجود سیاسی جماعت کا عہدہ اپنے پاس رکھنے کے اقدام کو چینلج کیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید کے روبرو درخواست کارروائی کے لیے پیش کی گئی تو فاضل جج نے یہ کہتے ہوئے درخواست پر سماعت سے معذوری ظاہر کی کہ وہ آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات میں سرکاری وکیل رہ چکے ہیں اس لیے اس درخواست پر ان کی جانب سے سماعت کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت دائر ہونے والی اس درخواست میں آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے اور درخواست گزار وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ صدر مملکت کا منصب وفاق کی علامت ہوتا ہے اور اس ناطے سے اس عہدے پرفائز شخص کسی سیاسی جماعت کا عہدہ نہیں سنبھال سکتے ۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آصف علی زرداری کا صدر پاکستان بننے کے بعد سیاسی جماعت کا عہدہ رکھنے آئین کے آرٹیکل اکتالیس (ایک) کی کھلی خلاف وزری ہے۔

درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ عدالت یہ ہدایات جاری کریں کہ آصف عل زرداری سربراہ مملکت ہونے کی وجہ سے فوری طور پر پیپلز پارٹی کے صدرات سے الگ ہوجائیں۔

درخواست میں یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ آصف علی زرداری ایوان صدر اور دیگرسرکاری تقریبات میں اپنی اہلیہ اور سابق وزیر اعظم بینظر بھٹو کی تصویر کو آویزاں کرتے ہیں اور بقول درخواست گزار وکیل کے آئینی اعتبار سے ملک کے صدر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے علاوہ کسی دوسرے سیاسی رہنما کی تصاویر کو آویزاں نہیں کرسکتا۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ آصف علی زرداری کو اپنی اہلیہ بینظر بھٹو کی تصاویر ایوان صدر اور دیگر سرکاری مقامات پر میں آیزواں کرنے سے روکا جائے۔