بارہ مئی: درخواستوں کی سماعت ملتوی

فائل فوٹو کراچی
،تصویر کا کیپشنبارہ مئی کو معزول چیف جسٹس کی کراچی آمد کے موقع پر ہنگامے پھوٹ پڑے جس میں تقریباً چالیس افراد ہلاک ہوئے
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھ ہائی کورٹ کے ایک دو رکنی بینچ نے کراچی میں بارہ مئی سنہ دو ہزار سات کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔ جبکہ بینچ میں شامل ایک جج نے درخواستوں کی سماعت کرنے سے انکار کردیا ہے۔

پیر کے روز سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مشیر عالم اور جسٹس اطہر سعید پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔

یہ درخواستیں کراچی کے رہائشی اقبال کاظمی نے داخل کر رکھی ہیں جن پر عدالت نے پہلے ہی سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سمیت دوسرے فریقین کو نوٹس جاری کررکھے ہیں۔

درخواست میں پرویز مشرف کے علاوہ حکمران جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین، سابق وزیر اعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم، ان کے اس وقت کے مشیر داخلہ وسیم اختر، سابق آئی جی پولیس سندھ نیاز احمد صدیقی، سابق سیکریٹری داخلہ غلام محمد محترم، کراچی پولیس کے سابق سربراہ اظہر فاروقی اور دوسرے متعلقہ پولیس افسران کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت بارہ مئی کے واقعات کے متعلق اس وقت کے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے ازخود نوٹس کے علاوہ دیگر متعلقہ آئینی درخواستوں کی ازسرنو سماعت کرے اور مذکورہ شخصیات کے خلاف ان واقعات کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

عدالت نے درخواست گذار سے استفسار کیا کہ انہوں نے بارہ مئی کے واقعات کے متعلق اپنی آئینی درخواست ماضی میں واپس لے لی تھی تو اب وہ اس کی دوبارہ سماعت کیوں کرانا چاہتے ہیں؟

جس پر درخواست گذار کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت جیل میں تھے اور جیل انتظامیہ سمیت اس وقت کے بعض دوسرے سرکاری حکام نے دباؤ ڈال کر درخواست واپس لینے پر مجبور کیا تھا۔

ڈویژن بینچ کا کہنا تھا کہ بارہ مئی کے واقعات کے متعلق چیف جسٹس ہائی کورٹ کے ازخود نوٹس کی سماعت عدالت پہلے ہی مکمل کرکے فیصلہ سناچکی ہے۔

جس پر درخواست گذار نے کہا کہ جس بینچ نے ازخود نوٹس کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ سنایا تھا اس میں زیادہ تر وہ ججز تھے جنہیں موجودہ سپریم کورٹ اپنے حالیہ فیصلے میں جنرل پرویز مشرف کے دوسرے پی سی او کے تحت حلف لینے پر غیرآئینی قرار دے چکی ہے اس لیے ان کا فیصلہ بھی اہمیت نہیں رکھتا۔

دو رکنی بینچ کے ایک ممبر جسٹس اطہر سعید نے یہ کہتے ان درخواستوں کی سماعت کرنے سے انکار کردیا کہ وہ خود اس واقعے کے عینی شاہد ہیں اور عدالت ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کے ساتھ ان کے سٹاف افسر کی تحریری شکایت کی بھی سماعت کرچکی ہے اس لیےوہ ان درخواستوں کی سماعت نہیں کرسکتے۔

عدالت نے فریقین کو جواب داخل کرنے کا حکم جاری کرتے درخواستوں کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔