’اصل سے زیادہ جعلی شراب بنتی ہے‘

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
الکوحلسے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر صداقت کہتے ہیںکہ دنیا بھر میں لوگ سکون اور اعتماد حاصل کرنے، اپنے مزاج کو ٹھنڈا اورحلیم بنانے اور دباؤ یا مایوسی کی کیفیت سے نکلنے کے لیے شراب نوشی کرتےہیں۔
انکا کہنا ہے کہ نوے فیصد شراب نوشی کرنے والے لوگوں کو کوئی مسئلہ نہیںہوتے بلکہ دس فیصد ایسے لوگ ہیں جو الکوحل سے متاثرہ بیماریوں میں مبتلاہوتے ہیں۔ جس میں الکوحلزم سے ہٹ کر کسرت سے شراب نوشی کی وجہ سے عارضہقلب، فشار خون، زیابیطس، جگر اور گردوں کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔
<span><span xml:lang="ar-sa"><link type="page"><caption> سندھ اور بلوچستان میں فروخت زیادہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090727_liqour_series.shtml" platform="highweb"/></link> </span></span>
<link type="page"><caption> ’بس جی پینے کا بہانہ چاہیے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090724_liquor_kahani2_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’شراب چیز ہی ایسی ۔۔۔‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090722_liquor_kahani.shtml" platform="highweb"/></link>
تیسبرسوں سے الکوحلزم کا شکار مریضوں کے علاج کا تجربہ رکھنے والے ڈاکٹرصداقت کا کہنا ہے کہ جب شراب پینے کے مقاصد حاصل نہ ہوں اور صورتحال اس کےبرعکس ہوجائے یعنی شراب نوشی کے بعد اگر کوئی شفیق ہونے کے بجائے سخت،غصہ، مار کٹائی اور شور شرابہ کرے یا تنہائی پسند بن جائے تو اس کا مطلبہے کہ وہ شخص الکوحلزم کا شکار ہے۔
الکوحلزمکی بیماریوں کو وہ دو حصوں میں بانٹتے ہیں۔ ایک ہے مائیکرو الکوحلزم ۔ انکے مطابق جس میں اگر کوئی نیورو سرجن یا آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تھوڑی بھیشراب پی لیں تو ان سے آپریشن نہیں ہو سکتا۔ جو شخص شراب پینے کے بعد بھیلوگوں کی نظر میں نارمل لگے وہ اس دائرے میں آتے ہیں۔ جبکہ دوسری کیٹگری’میکرو الکوحلزم‘ ہے جس میں شراب نوشی کرنے والا ڈگمگاتا ہے اور دوسرے لوگاُسے محسوس کرنے لگتے ہیں کہ یہ شخص نارمل نہیں ہے۔
دنیابھر میں گزشتہ دس ہزار برسوں سے شراب کے مقبول ہونے کی وجہ اس کی خوبیاںہیں کیونکہ شراب پینے کے بعد لوگ سکون محسوس کرتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہےکہ شراب پینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق زیادہ خطرہ ایسے لوگوں کولاحق ہوتا ہے جو دیسی طریقے سے بھٹی کی بنائی ہوئی شراب پیتے ہیں جس میںبہت زہریلے مادے شامل ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جعلیشراب کتنی بنتی ہے اس بارے میں جب مری بروری کے مالک اِسفنیار بھنڈارا سےدریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں کوئی اعداد وشمار موجود نہیںہیں۔ لیکن ان کے بقول پاکستان میں جتنی شراب ملک کی تین بروریز بناتی ہیںاس سے زیادہ شراب دیسی اور جعلی طریقے سے بنتی ہے۔
ڈاکٹرصداقت کہتے ہیں کہ پاکستان میں الکوحل والی مشروبات پینے والے لوگ علاج سےہچکچاتے ہیں اور اکثر ایسے مریض اپنے اہل خانہ کے توسط سے علاج کے لیے آتےہیں۔ ان کے مطابق کچھ مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جو اہل خانہ کی بات نہیںمانتے اور ایسے معاملات میں مریضوں کے اہل خانہ کو تربیت دی جاتی ہے اوراس کے مطابق جب وہ مریض سے بات کرتے ہیں تو پھر ایک مرحلے کے بعد وہ راضیہوتے ہیں۔
ایسے ہیایک مریض کا تعلق لاہور سے ہے۔ لاہور سے فون پر بات کرتے ہوئے مسز بخشنے بتایا کہ ان کے شوہر انیس سال تک شراب پیتے رہے اور جب انہوں نے دن راتپینا شروع کردی تو پریشانی بڑھ گئی۔ انہوں نے اپنے شوہر کا نام خفیہ رکھتےہوئے بتایا کہ وہ شراب پینے کے بعد بہت زیادہ غصہ کرتے، دوستوں اور رشتہداروں سے لڑ پڑتے۔ ’میں نے انہیں علاج کے لیے راضی کیا اور ’ولنگ ویزکلینک‘ لے گئے جہاں وہ کچھ ماہ کے علاج کے بعد ٹھیک ہوگئے ہیں۔‘
انہوںنے بتایا کہ گزشتہ گیارہ ماہ سے ان کے شوہر نے شراب کو ہاتھ تک نہیں لگایااور اب ان کا رویہ بچوں اور دیگر عزیز و اقارب اور دوستوں سے بہت اچھاہے۔ مسز بخش نے کہا کہ اصل میں الکوحل کا شکار مریض کو ہمدردی اور خصوصیتوجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’ہمیں مریض کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ان سے نرملہجے اور دلائل کے ساتھ بحث کرنی چاہیے۔‘
اسلامیاور ملکی قوانین کے مطابق پاکستان میں شراب نوشی پر پابندی کے باوجود بھیہر سال شراب نوشی کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ اپنی جگہ لیکن صحتسے متعلق ماہرین کہتے ہیں کہ شراب نوشوں کو اپنے جسم کا مستقل طبی معائنہکرانا چاہیے تاکہ اگر کوئی بیماری پیدا ہو تو اس کا بر وقت علاج کیاجاسکے۔
( پاکستان میں بڑھتی ہوئی شراب نوشی کے بارے میں بی بی سی اردو کیتیار کردہ خصوصی سیریز کی یہ آخری قسط ہے)۔







