کبھی مسیحا، کبھی بے معنی شخص

صوفی محمد
،تصویر کا کیپشنمولانا صوفی محمد نے سات برس محض اس لیے قید کاٹی کہ وہ انگریزی قانون کے تحت رہائی کی درخواست نہیں دینا چاہتے تھے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

فلموں میں اکثر دیکھا ہے کہ ہیرو کی بینائی کسی وجہ سے وقتی طور پر ختم ہوجاتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد جب سین کا تقاضا ہوتا ہے اور صورتحال ہیرو کی بہتری کی جانب تبدیل ہوتی ہے تو اسے صاف صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔

یہی کچھ ہماری حکومتوں کے ساتھ بھی سن دو ہزار ایک کے بعد سے ہو رہا ہے۔ اسے پہلے تو کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کا ہزاروں پاکستانیوں کو ’جہاد‘ کے نام پر افغانستان لے جانا دکھائی نہیں دیتا، لیکن جب وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں تو انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔

انیس سو بانوے سے متحرک تحریک نفاذ شریعت محمدی حکومت کو ایک عام سی پرامن تنظیم دکھائی دیتی رہی جس کا واحد مقصد نفاذ شریعت تھا لیکن جنوری دو ہزار دو کو یکایک جنرل مشرف کی حکومت کو خیال آیا کہ ’ارے وہ تو دہشت گرد تنظیم ہے‘ لہٰذا اس پر بین الاقوامی دباؤ میں آکر پابندی عائد کر دی گئی۔

اس کے بعد مولانا صوفی محمد ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں سات برس قید محض اس لیے کاٹتے ہیں کہ وہ انگریزی قانون کے تحت رہائی کی درخواست نہیں دینا چاہتے تھے۔ لیکن ان کی تنظیم مالاکنڈ میں اس تمام عرصہ میں اپنے نائب امیر مرحوم مولانا عالم کی قیادت میں متحرک رہی جو ماسوائے حکومت سب کو نظر آ رہی تھی۔

پھر سال دو ہزار آٹھ آتا ہے اور جیل کی ایک تاریک کوٹھری میں پڑے مولانا صوفی محمد حکومت کو ایک مسیحا کے روپ میں نظر آنے لگتے ہیں۔انہیں سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جیل سے نکال کر نہ صرف سوات پہنچا دیا جاتا ہے بلکہ ان کے نظامِ عدل کے قیام کے مطالبے کو بھی دنوں میں عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔

لیکن جب پھر بھی حاصل کچھ نہیں ہوتا ہے تو حکومت کو ایک مرتبہ پھر بینائی کھو جانے کا دورہ پڑتا ہے۔ صوفی محمد بےمعنی ہو جاتے ہیں۔ اور ایک مبصر کے مطابق جس ڈرامائی انداز میں انہیں لایا جاتا ہے اسی ڈرامائی انداز میں وہ لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ حکومت انہیں کھو دیتی ہے تاہم ان کے دو قریبی ساتھیوں مولانا عالم اور ترجمان امیر عزت خان ایک ’مقابلے‘ میں مارے جاتے ہیں۔

پھر دھیمے لہجے والے مولانا صوفی محمد اپنے آبائی علاقے سے کرفیو اور سخت تلاشیوں کے باوجود نکل کر پشاور پہنچ جاتے ہیں اور حکومت کو دکھائی نہیں دیتا۔ وہ پشاور کے مضافات میں سیٹھی ٹاؤن کا ایک مکان کرائے پر لیتے ہیں اور وہاں رہنے لگتے ہیں البتہ حکومت کو نظر نہیں آتے۔

لیکن جب وہ اپنی کالعدم تحریک کا اجلاس منعقد کرتے ہیں اور ٹی وی سکرینوں پر نظر آنے لگتے ہیں تو حکومت کی بینائی اچانک واپس آ جاتی ہے۔ ایک اور کارروائی ہوتی ہے اور انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

اب وزیر اعلٰی سرحد امیر حیدر خان ہوتی کہتے ہیں کہ حکومت مولانا صوفی محمد کے شدت پسندوں کے ساتھ روابط اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مولانا کے خلاف اب کسی گواہ کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے ملک کی عدلیہ، آئین اور اداروں کے خلاف بیانات میڈیا میں ریکارڈ پر ہیں۔

یہ کسی فلمی سین کی طرح محسوس ہوتا ہے جس میں ہیرو ڈاکٹر صاحب کو چیختے ہوئے مخاطب کرتا ہے: ’ڈاکٹر صاحب، ڈاکٹر صاحب میں دیکھ سکتا ہوں۔‘