کوئٹہ میں ایک پروفیسر کا قتل

کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعہ کی ر ات کو نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ڈگر ی کالج کوئٹہ کے ایک پروفیسر کوگولی مار کر ہلاک کرکے فرار ہونے میں کامیا ب ہوگئے۔ اس واقعہ پر احتجاج کر تے ہوئے بلوچستان کے کالج اساتذہ نے کل صوبے بھر میں کالجوں کی تالہ بندی اور تین روزہ سوگ منانے کااعلان کیا ہے۔

جمعہ کی رات کوسریاب روڈ پر ایک موٹرسائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے ڈگری کالج کوئٹہ کے ایک اور پروفیسر محمد سرور کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا جب وہ رات کو گھر سے باہر نکلے تھے۔ واقعہ کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔واقعہ کے بعد پولیس نے قانونی کاروائی کرنے کے لیے محمدسرور کی لاش سول ہسپتال پہنچائی جہاں ڈاکڑوں نے ابتدائی کارروائی کرنے کے بعدلاش کوورثاء کے حوالے کردیا ہے۔ پروفیسر محمدسرور آرائیں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے رہائشی تھے اور ڈگری کالج کوئٹہ میں وہ طلبہ کوکیمسٹری پڑھا رہے تھے۔اس واقعہ پر بلوچستان پروفیسر اینڈ لکچرار ایسوسی ایشن نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سنیچر کے روز صوبہ بھر میں کالجوں کوبندرکھنے اور تین تک سوگ منانے کااعلان کیا ہے۔ بلوچستان پروفیسر اینڈ لکچرار ایسوسی ایشن کے صدر محمدنواز نے صوبائی حکومت پر شدید تنقید کر تے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کوئٹہ کے شہریوں باالخصوص آبادکاروں کی تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے۔ انکے مطابق کہ کل سر یاب روڈ پر ہائی اسکول کے پرنسپل حاجی محمدمحسن کوہلاک کیا گیا تھا جس کی جنازہ سے ہم فارغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ آج پروفیسر محمدسر ور کوقتل کردیاگیا۔واضع رہے کہ کل گورنمنٹ ہائی اسکول سریاب کے پرنسپل محمدمحسن کی ہلاکت کے خلاف وطن ٹیجرز ایسوسی ایشن نے پہلے ہی آج سے تین دن تک کوئٹہ کے اسکولوں میں کلاسوں کا بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔جبکہ بلوچ لیبریشن آرمی نے کل محمدمحسن کی ہلاکت کی زمہ داری قبول کی تھی۔گذشتہ ماہ خضدار ریذیڈنشل کالج کے وائس پرنسپل اور گورنمنٹ کالج آف کامرس کوئٹہ کے پرنسپل مرزاآمانت علی بیگ کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے امن وامان کوبرقرار رکھنے میں ناکامی اعتراف کر تے ہوئے کوئٹہ شہر میں قیام امن کے لیے فرنٹیئر کور کوطلب کیاتھا جس نے آتے ہی کوئٹہ میں مشکوک افراد پر نظر رکھنے کے نہ صرف مختلف مقامات پر چیک پوسٹ قائم کیے بلکہ کالے ششے والی گاڑیوں کے چلانے پر پابندی لگادی لیکن چار ہفتے کی خاموشی کے بعد گذشتہ دو دنوں کے دوران کوئٹہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے تحت تعلیم کے شعبے سے وابستہ د وافراد کی ہلاکتوں کے واقعات نے کوئٹہ کے آبادکاروں کوخوف میں مبتلاکر دیا ہے۔ ابھی تک فرنٹیئر کور اور پولیس کو آباد کاروں پر حملوں میں ملوث ملزمان کی گر فتاری میں کامیابی نہیں ہوئی ہے۔