خواجہ سراؤں کی تنظیم سازی

پاکستان میں شمائل راج کا مقدمہ بھی سپریم کورٹ میں پہنچا تھا
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں شمائل راج کا مقدمہ بھی سپریم کورٹ میں پہنچا تھا
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خواجہ سراؤں نے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے کی خاطر ایک تنظیم کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم کا نام پارٹیسیپیٹری آرگنائزیشن فار ایمپاورمنٹ آف ایم ایس ایم اینڈ ٹرانس جینڈرز (پوئیٹ) رکھا گیا ہے۔

تنظیم کے قیام کا اعلان خواجہ سرا بندیا باجی نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں کیا۔ بندیا کراچی کی خواجہ سراؤں کی کمیونٹی میں گرو کی حیثیت رکھتی ہیں اور پہلے بھی مخنثوں کے حقوق کے لئے اپنے تئیں آواز اٹھاتی رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فی الوقت ان کی تنظیم میں کراچی اور اندرون سندھ کے تین سو خواجہ سرا شامل ہیں لیکن ان کا ارادہ ہے کہ وہ تنظیمی دائرے کو بتدریج وسعت دیکر دوسروں صوبوں کے خواجہ سراؤں کو بھی اس میں شامل کریں گی۔

بی بی سی سے بات کرتے انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔

جسٹس افتخار چوہدری کے ہم سچے دل سے شکر گذار ہیں کہ انہوں نے ہمیں بھی انسان سمجھا اور ہماری رجسٹریشن کے لئے حکومت کو آرڈر جاری کیا۔ اسی سے ہمیں حوصلہ ملا ہے اور میں نے یہ تنظیم بنائی ہے تاکہ اپنی کمیونٹی کے جو مسائل ہیں ان کے حل کے لئے کام ہوسکے۔‘

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایک وکیل کی جانب سے داخل درخواست پر سولہ جون کو یہ حکم جاری کیا ہے کہ چاروں صوبوں کے سماجی بہبود کے محکمے خواجہ سراؤں کے بارے میں سروے کرکے ان کی رجسٹریشن کریں۔

بندیا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج بھی خواجہ سراؤں کو شہری ہی نہیں سمجھا جاتا۔

’جو حیثیت عام مرد کو یا عورت کی ہے یا جو انہیں سہولیات دستیاب ہیں وہ ہمیں نہیں ہیں۔ نہ تو ہمیں سرکاری محکموں میں نوکری ملتی ہے اور نہ ہی پرائیویٹ اداروں میں ہمارے لئے کوئی جگہ ہے جس کی وجہ سے خواجہ سرا ناچ گانے، بھیک مانگنے اور دوسرے کام کرنے پر مجبور ہیں۔‘

بندیا نے کہا کہ خواجہ سرا بھی انسان ہیں لیکن پاکستان میں ان کے ساتھ ذلت آمیز اور امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اور اسکے خلاف انہیں کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

’ہمیں لوگ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ مذاق اڑاتے ہیں جس کی وجہ سے بچپن سے ہی ہم تعلیم حاصل نہیں کرپاتے۔ اگر بھولے بھٹکے سے کسی کے والدین تعلیم دلواتے بھی ہیں تو اسے ملازمت نہیں ملتی بلکہ اس پر جملے کسے جاتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ کے حصول میں بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ فارم میں جنس کے کالم میں مرد اور عورت کا کالم تو ہے لیکن خواجہ سرا کا کوئی کالم نہیں ہے۔

’وہاں ہم سے پوچھا جاتا ہے بھائی آپ مرد ہیں یا عورت۔ جب ہم خواجہ ہیں تو ہمیں خواجہ سرا ہی لکھا جانا چاہیے۔ اگر ہم عورتوں والا نام بتاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ عورت تو نہیں ہو مردوں والا نام بتاتے ہیں تو بولتے ہیں کہ جی آپ مرد نہیں ہو تو حکومت ہی طے کردے کہ ہم کیا ہیں۔ یہ تو غلط بات ہے نا، ہر انسان کو جینے کا حق ہے۔‘

بندیا کا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کے کوئی خاص مطالبے نہیں ہیں بلکہ وہ یہی چاہتے ہیں کہ انہیں بھی دوسرے شہریوں کی طرح کے حقوق حاصل ہوں اور سماجی اور سرکاری سطح پر ان کے وجود کو باعزت طور پر تسلیم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرے گی اور اگر ضرورت پڑی تو اسکے لئے پرامن احتجاج بھی کرے گی۔